آئی سی سی نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان نے بھارت کے ساتھ میچ کا بائیکاٹ کیا تو نتائج پریشان کن ہونگے۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان نے 15 فروری کو بھارت کے خلاف گروپ میچ نہ کھیلے تو اس کے طویل مدتی اثرات ملکی کرکٹ اور عالمی کرکٹ پر مرتب ہوں گے۔
کرکٹ ویبسائٹ کے مطابق، آئی سی سی نے کہا ہے کہ وہ پی سی بی سے توقع رکھتا ہے کہ وہ ایک ایسا حل تلاش کرے جو تمام اسٹیک ہولڈرز کے مفادات کا تحفظ کرے۔
یہ بیان پاکستان حکومت کے اعلان کے تین گھنٹے بعد جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان 2026 ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف اپنا گروپ میچ نہیں کھیلے گا۔
مزید پڑھیں: آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ؛ پاکستان ٹیم کی کٹ کی رونمائی منسوخ کر دی گئی
آئی سی سی نے واضح کیا کہ انتخابی شمولیت (Selective Participation) عالمی کھیل کے اصولوں کے خلاف ہے، کیونکہ تمام ٹیمیں برابر شرائط پر مقابلہ کریں گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ فیصلہ عالمی کھیل اور شائقین کے مفاد میں نہیں ہے، جس میں پاکستان کے لاکھوں مداح بھی شامل ہیں۔
پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی کے مطابق، پاکستان کی شرکت کا حتمی فیصلہ حکومت کرے گی۔ پاکستان گروپ اے میں بھارت، نمیبیا، نیدرلینڈز اور یو ایس اے کے ساتھ ہے، اور تمام میچ سری لنکا میں کھیلے جائیں گے۔
پاکستان اپنا پہلا میچ 7 فروری کو نیدرلینڈز کے خلاف کھیلے گا، اس کے بعد 10 فروری کو یو ایس اے اور 18 فروری کو نمیبیا کے خلاف میچز ہوں گے۔
اگر پاکستان بھارت کے خلاف میچ بائیکاٹ کرتا ہے تو اسے دو پوائنٹس سے ہاتھ دھونا پڑے گا، اور آئی سی سی کے قواعد کے مطابق پاکستان کا نیٹ رن ریٹ بھی متاثر ہوگا، جبکہ بھارت کے نیٹ رن ریٹ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
آئی سی سی نے زور دیا ہے کہ ورلڈ کپ کی کامیاب تکمیل تمام رکن ممالک بشمول پی سی بی کی ذمہ داری ہے، اور وہ توقع رکھتا ہے کہ پاکستان ایک ایسا باہمی قابل قبول حل تلاش کرے جو عالمی کرکٹ اور شائقین کے مفادات کا تحفظ کرے۔



















