سائنسدانوں نے بالوں کے مکمل اور فعال پٹھے تیار کرکے طب کی تاریخ میں انقلاب برپا کردیا ہے۔ امریکا اور جاپان کے محققین کی اس کامیابی سے گنج پن کے علاج کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
اس تحقیق میں محققین نے بالوں کے پٹھوں کی تشکیل کے لیے تین اقسام کے خلیوں کا استعمال کیا۔ پہلے دو اقسام کے خلیے ایپیتھیلیل سٹیم سیلز اور ڈرمل پیپلا سیلز پہلے سے استعمال ہورہے تھے لیکن ان سے تیار ہونے والے بال لیبارٹری میں مکمل طور پر فعال نہیں ہوپاتے تھے۔
تیسری قسم کے خلیے کو شامل کرنے سے یہ مسئلہ حل ہوگیا۔ یہ خلیے بالوں کے پٹھوں کو ڈھانچہ اور مضبوطی فراہم کرتے ہیں اور انہیں جلد سے منسلک ہونے میں مدد دیتے ہیں۔
محققین کے مطابق اس تحقیق سے بالوں کے پٹھوں کی تشکیل کا بنیادی نسخہ مل گیا ہے۔ اس سے نہ صرف بالوں کی نشوونما کو سمجھنے میں مدد ملے گی بلکہ مستقبل میں گنج پن کے مریضوں کے لیے نیا علاج بھی ممکن ہوسکے گا۔
چوہوں پر تجربہ
یہ تحقیق فی الحال چوہوں پر کی گئی ہے اور انسانوں پر اس کے اثرات کی تصدیق باقی ہے تاہم محققین کو امید ہے کہ یہ کامیابی جلد ہی انسانوں پر بھی آزمائی جاسکے گی۔
مستقبل کے امکانات
اس تحقیق میں شامل کچھ سائنسدان آرگن ٹیک نامی کمپنی سے منسلک ہیں جو لیبارٹری میں بالوں کے پٹھے تیار کرنے پر کام کررہی ہے۔ کمپنی کا مقصد مستقبل میں بالوں کی بحالی کے لیے مکمل علاج تیار کرنا ہے۔
لیبارٹری میں تیار ہونے والے بالوں کو جانوروں یا انسانوں پر ٹیسٹ کیے بغیر بال گرنے کی ادویات جانچنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
آرگن ٹیک کے سی ای او یوشی شیمو کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق بالوں کی نشوونما کے حوالے سے بنیادی حیثیت رکھتی ہے اور اس سے اعضاء کی بحالی کی دوا سازی میں بھی مدد ملے گی۔
واضح رہے کہ اب تک لیبارٹری میں تیار ہونے والے بالوں کے پٹھے زندہ جانوروں کی جلد میں پیوند کرنے کے بعد ہی فعال ہوتے تھے لیکن اب پہلی بار لیبارٹری میں ہی مکمل طور پر فعال بال تیار کرلیے گئے ہیں۔
















