امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف جاری کارروائی اس وقت تک ختم نہیں کرے گا جب تک تمام مقاصد مکمل نہیں ہو جاتے۔
کینٹکی میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا کو ایران میں اپنا کام ہر صورت مکمل کرنا ہوگا اور خطے میں استحکام کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں۔
اپنے خطاب میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج کی کارروائیوں کے دوران ایران کے درجنوں جہاز اور بارودی سرنگیں بچھانے والی کئی کشتیاں تباہ کی جا چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ایرانی ڈرون حملوں میں نمایاں کمی آئی ہے اور سمندری راستوں کو محفوظ بنایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران میں ٹرمپ کی ’وینزویلا طرز‘ حکمت عملی ناکام رہی، برطانوی اخبار
امریکی صدر نے مزید کہا کہ آپریشن کے ابتدائی مراحل میں ہی بڑی کامیابی حاصل ہو گئی تھی اور امریکی افواج نے تیزی سے اہداف حاصل کیے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو بھی قلیل وقت میں صاف کر دیا گیا جس سے عالمی تجارت اور جہاز رانی کے لیے خطرات کم ہوئے۔
ٹرمپ نے اپنی تقریر میں سابق امریکی حکومتوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ماضی میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے مختلف فیصلے نہ کیے جاتے تو موجودہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا میں گزشتہ گیارہ ماہ کے دوران کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری آئی ہے جو ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہے۔
خطاب کے دوران ایک موقع پر اسٹیج کے پیچھے موجود ایک شخص بے ہوش ہو گیا جس پر صدر ٹرمپ نے فوری طور پر تقریر روک دی اور طبی عملے کو بلانے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں انہوں نے کہا کہ امریکا توقع سے زیادہ تیزی سے اپنے اہداف حاصل کر رہا ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ خطے میں ہر چند سال بعد دوبارہ مداخلت کرنا پڑے۔




















