Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ٹی ریکس سے پہلے زمین پر کون راج کرتا تھا؟ نیا انکشاف

شمالی امریکا میں 7.4 کروڑ سال پرانے ٹائرنوسور کی ہڈیاں دریافت ہوئی ہیں۔

شمالی امریکا میں 7.4 کروڑ سال پرانے ٹائرنوسور کی ہڈیاں دریافت ہوئی ہیں جو اپنے دور کا سب سے بڑا ٹائرنوسور سمجھا جارہا ہے۔

ماہرین نے شمالی امریکا میں اب تک دریافت ہونے والے قدیم ترین ٹائرنوسور کی ہڈی کا تجزیہ کیا ہے۔ یہ ہڈی 7.4 کروڑ سال پرانی ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ٹی ریکس کا کوئی بہت بڑا رشتہ دار اس سے بھی پہلے زمین پر موجود تھا۔

امریکا کی کرٹ لینڈ فاؤنڈیشن میں 1980 کی دہائی میں دریافت ہونے والی یہ پنڈلی کی ہڈی ٹی ریکس کے مشہور نمونے ’’سو‘‘ کی ہڈی سے 84 فیصد لمبی اور 78 فیصد موٹی ہے۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف باتھ کے ماہر نکولس لانگریچ اور ان کے ساتھیوں کا خیال ہے کہ یہ ہڈی ٹی ریکس کے کسی قریبی رشتہ دار کی ہے۔

محققین کے مطابق اس ٹائرنوسور کا وزن تقریباً 4700 کلوگرام تھا جو کہ ایک بڑے افریقی ہاتھی کے برابر ہے۔ اگرچہ یہ سب سے بڑے ٹائرنوسور کے مقابلے میں نصف وزن ہے لیکن اپنے دور کا یہ سب سے بڑا ٹائرنوسور ہے۔

یہ دریافت ٹی ریکس کی ابتدا کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتی ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ ٹی ریکس ایشیا میں پیدا ہوا جب کہ دیگر کا ماننا ہے کہ اس کی ابتدا شمالی امریکا کے جنوبی حصے سے ہوئی۔ یہ نئی دریافت شمالی امریکا کے نظریے کو تقویت دیتی ہے۔

ہڈی کی عمر کا تعین اس پر جمی آتش فشانی راکھ میں موجود آئسوٹوپس سے کیا گیا۔ اس راکھ کی تہہ کے اوپر اور نیچے کی تہوں کی بھی واضح تاریخیں ہیں جس سے اندازے کی درستگی بڑھ جاتی ہے۔

یہ واضح نہیں کہ یہ نیا ڈائنوسار کے فیملی ٹری میں کہاں جگہ بناتا ہے کیونکہ ابھی صرف ایک ہڈی ملی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ مزید دریافتیں اس کے سائز اور رشتوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیں گی۔