Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

امریکا کا اڑتا میزائل پلیٹ فارم ایکس 68 اے، جدید جنگ کا نیا باب شروع

خاص طور پر ایف 15 ایگل جیسے فائٹر جیٹس سے لانچ کیا جا سکتا ہے

امریکا ایک ایسے جدید فضائی نظام پر کام کر رہا ہے جو مستقبل کی جنگی حکمت عملی کو یکسر تبدیل کر سکتا ہے۔

ایکس 68 اے نامی یہ نیا ڈرون میزائل لانچر اس وقت آزمائشی مراحل سے گزر رہا ہے اور اسے امریکی دفاعی تحقیقی ادارے ڈیفینس ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹس ایجنسی کے لانگ شاٹ پروگرام کے تحت تیار کیا جا رہا ہے۔

اس جدید فضائی نظام کی خاص بات یہ ہے کہ اسے ایک بڑے طیارے سے فضا میں چھوڑا جاتا ہے اور یہ خودکار انداز میں آگے بڑھ کر میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس طرح جنگی طیارے خطرناک علاقوں میں داخل ہوئے بغیر ہی دشمن کو نشانہ بنا سکیں گے۔

ماہرین کے مطابق ایکس 68 اے ظاہری شکل میں کروز میزائل جیسا دکھائی دیتا ہے، تاہم اس میں روایتی دھماکا خیز وارہیڈ موجود نہیں ہوتا۔

اسے جنگی طیاروں خاص طور پر ایف 15 ایگل جیسے فائٹر جیٹس سے لانچ کیا جا سکتا ہے، جہاں سے یہ تیزی سے آگے بڑھ کر اپنے ایئر ٹو ایئر ہتھیار فائر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق اس ڈرون پر مختلف تجربات جاری ہیں جن میں ونڈ ٹنل ٹیسٹ، پیراشوٹ اور ریلیز سسٹم کی جانچ شامل ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ ڈرون اپنے کیریئر طیارے سے محفوظ انداز میں الگ ہو کر مؤثر طریقے سے کام کر سکے۔ اس منصوبے کے تحت اس سال کے آخر میں اس کا پہلا باقاعدہ فضائی تجربہ متوقع ہے۔

X-68A LongShot Air-To-Air Missile-Carrying Drone Moves Closer To F-15 Launch

اس نظام کو اس انداز میں ڈیزائن کیا جا رہا ہے کہ اسے مختلف اقسام کے طیاروں، جیسے فائٹر جیٹس اور بمبار طیاروں کے ساتھ استعمال کیا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو گیا تو مستقبل میں فضائی جنگ کی نوعیت بدل سکتی ہے اور پائلٹس کو خطرناک محاذوں سے دور رکھتے ہوئے دشمن پر حملے ممکن ہو سکیں گے۔

U.S. Military Unveils New Superweapon That Will Terrify China: DETAILS |  OutKick

واضح رہے کہ ڈیفینس ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹس ایجنسی امریکی محکمہ دفاع کا وہ ادارہ ہے جو جدید اور انقلابی ٹیکنالوجیز کی تیاری پر کام کرتا ہے۔

اسی ادارے کی تحقیق کے نتیجے میں ماضی میں کئی اہم ایجادات سامنے آئیں جن میں انٹرنیٹ کا ابتدائی نظام بھی شامل ہے۔

ماہرین کے مطابق ایکس 68 اے جیسے منصوبے اس بات کی علامت ہیں کہ آنے والے برسوں میں ڈرون اور خودکار ہتھیاروں کا کردار جنگی میدان میں پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو سکتا ہے۔