ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے اب کھیلوں کے میدان کو بھی اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے، اور ایک نئی پیش رفت میں روبوٹ نے ٹینس جیسے تیز رفتار کھیل میں انسان کے مقابل آنے کی صلاحیت دکھا دی ہے۔
چین کی ٹیک کمپنی گیلبوٹ نے حال ہی میں ایک جدید روبوٹ کو ٹینس کھیلنے کے قابل بنا کر سب کو حیران کر دیا۔
اس مقصد کے لیے یونی ٹری روبوٹکس کے تیار کردہ روبوٹ کو استعمال کیا گیا، جسے انسانی حرکات و سکنات کو سمجھنے اور ان پر ردِعمل دینے کی خصوصی تربیت دی گئی۔
محققین کے مطابق اس روبوٹ کو اس انداز میں پروگرام کیا گیا کہ وہ نہ صرف گیند کو پہچان سکے بلکہ انسانی کھلاڑی کی چال، رفتار اور شاٹس کو دیکھ کر فوری فیصلہ بھی کر سکے۔ اس حکمت عملی نے غیر معمولی نتائج دیے۔
یونی ٹری جی ون نامی روبوٹ نے اپنے ابتدائی مقابلے میں گیند کو مختلف زاویوں سے واپس کر کے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، جسے ماہرین نے توقع سے کہیں بہتر قرار دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسی رفتار سے ترقی جاری رہی تو مستقبل میں ومبلڈن چیمپئن شپ جیسے بڑے ایونٹس میں انسان بمقابلہ روبوٹ میچز دیکھنا حیران کن نہیں ہوگا، جو کھیلوں کی دنیا میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔


















