Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

طالبان کی گزشتہ ایک سال میں تقریباً 1,200 افراد کو کوڑے کی سزا

تنقید کے باوجود طالبان ان سزاؤں کا دفاع اسلامی قانون کے نفاذ کے طور پر کرتے ہیں

طالبان  نے افغانستان میں مارچ 2025 سے مارچ 2026 تک کے دوران کم از کم 1,186 افراد کو کوڑے مارے اور چھ افراد کو سرعام پھانسیاں دیں۔ یہ اعداد و شمار سرکاری بیانات اور امو ٹی وی کی مرتب کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔

یہ اعداد و شمار طالبان کی سپریم کورٹ کے بیانات سے حاصل کیے گئے ہیں، جو ظاہر کرتے ہیں کہ ملک کے بیشتر حصوں میں جسمانی سزائیں دینے کا سلسلہ جاری ہے اس میں 11 جولائی سے 22 جولائی کے آخری 12 دن شامل نہیں ہیں، اس طرح کوڑوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

یہ سزائیں درجنوں صوبوں میں دی گئیں، جن میں کابل، ہرات، بلخ، قندھار، ننگرہار، خوست، بدخشاں، غور، پکتیا، پکتیکا، فاریاب، لغمان، کاپیسا، پروان، ارزگان، زابل، کنڑ، میدان وردک، غزنی، کندوز، بغلان، تخار، بادغیس، فراہ، نیمروز، لوگر، جوزجان، ہلمند، سرِ پل، دایکندی اور بامیان شامل ہیں۔

طالبان کے عدالتی بیانات کے مطابق سال کے آخری مہینوں میں جسمانی سزاؤں میں اضافہ ہوا، اور خواتین بھی ان سزاؤں کا نشانہ بنیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آٹھ ماہ کے عرصے میں تقریباً 100 خواتین کو کوڑے مارے گئے، جن میں سے کئی سزائیں عوام کے سامنے دی گئیں۔

انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ جسمانی سزاؤں میں اضافہ طالبان کے تحت وسیع تر پابندیوں کی عکاسی کرتا ہے اور منصفانہ قانونی عمل اور بنیادی آزادیوں کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔

انسانی حقوق کے محقق عبدالاحد فرزام نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات کے طویل مدتی نتائج ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’یہ سزائیں بنیادی انسانی حقوق کے معیارات کی خلاف ورزی ہیں اور معاشرے میں خوف کا ماحول پیدا کرتی ہیں۔‘‘

قصاص یا انتقامی انصاف کے اصول کے تحت سال کے دوران سرعام پھانسیاں بھی دی گئیں۔ کم از کم چار صوبوں کے رہائشیوں نے ایسی پھانسیاں دیکھی ہیں۔

گزشتہ برس کے دوران قصاص کے اصول کے تحت سرعام پھانسیاں بھی دی گئیں جس کا مشاہدہ کم از کم چار صوبوں میں رہنے والے افراد نے کیا۔

تازہ ترین واقعے میں، خوست کے ایک اسٹیڈیم میں ایک شخص کو ہزاروں تماشائیوں، جن میں بچے بھی شامل تھے، کے سامنے پھانسی دی گئی۔ اس کے علاوہ بادغیس میں تین افراد کو سزائے موت دی گئی، جبکہ فراہ اور نیمروز میں ایک ایک واقعہ رپورٹ ہوا۔

جسمانی سزاؤں اور پھانسیوں کے علاوہ طالبان نے سال کے دوران ایک نیا فوجداری ضابطہ بھی متعارف کرایا، جسے اس کی سختی اور مناسب قانونی تحفظات کی کمی پر عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔

طالبان نے اختلاف رائے کے خلاف کارروائیاں بھی تیز کر دیں۔ ایک کیس میں کاپیسا صوبے کے ایک شخص کو ’’نظام کے خلاف پروپیگنڈا‘‘ کے الزام میں 39 کوڑے اور ڈیڑھ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ایک اور واقعے میں بادغیس میں ایک شخص کو طالبان رہنما ہیبت اللہ اخوندزادہ کی مبینہ توہین پر کوڑے مارے گئے اور قید کی سزا دی گئی، تنقید کے باوجود طالبان ان سزاؤں کا دفاع اسلامی قانون کے نفاذ کے طور پر کرتے ہیں۔

تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات افغانستان کو مزید تنہائی کی طرف دھکیل رہے ہیں اور طالبان کے دور میں بنیادی آزادیوں کے تحفظ پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں