Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

یورپ کے ایک اور ملک نے کم عمر افراد کے انرجی ڈرنکس پینے پر پابندی عائد کر دی

یہ اقدام  جرمنی، ناروے، پولینڈ اور دیگر یورپی ممالک کی طرز پر کیا جا رہا ہے

نوجوانوں کی صحت کے تحفظ کیلئے اہم قدم اٹھاتے ہوئے 16 سال سے کم عمر بچوں کو انرجی ڈرنکس کی فروخت پر یورپی ملک  نے پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ 18 سال سے کم عمر افراد کیلئے زیادہ کیفین والی ڈرنکس پر بھی سخت پابندیاں لگائی جائیں گی۔

یورپی ملک اسپین کے صارفین امور کے وزیر نے اعلان کیا کہ نئی قانون سازی کے تحت 16 سال سے کم عمر افراد کیلئے تمام انرجی ڈرنکس کی فروخت مکمل طور پر ممنوع ہوگی۔

مزید برآں ایسے مشروبات جن میں 100 ملی لیٹر میں 32 ملی گرام سے زائد کیفین ہو، وہ 18 سال سے کم عمر افراد کو فروخت نہیں کیے جا سکیں گے۔

وزیر کے مطابق سائنسی شواہد سے ثابت ہوا ہے کہ انرجی ڈرنکس نوجوانوں کی صحت کیلئے خطرہ بن چکی ہیں۔

اسپین کی وزارت صحت کے 2025 کے سروے کے مطابق 14 سے 18 سال کے 38.4 فیصد طلبہ نے گزشتہ ایک ماہ میں انرجی ڈرنکس استعمال کیں جبکہ لڑکوں میں یہ شرح 45.7 فیصد اور لڑکیوں میں 31 فیصد رہی۔ سب سے زیادہ استعمال 16 سے 18 سال کے لڑکوں میں دیکھا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق اسپین کی 25 فیصد آبادی انرجی ڈرنکس استعمال کرتی ہے، جن میں سے تقریباً نصف افراد روزانہ کم از کم ایک ڈرنک پیتے ہیں، جبکہ 47 فیصد لوگ اسے الکحل کے ساتھ ملا کر استعمال کرتے ہیں جو صحت کیلئے مزید خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

مارکیٹ رپورٹ کے مطابق 2025 میں اسپین میں 105 ملین لیٹر انرجی ڈرنکس فروخت ہوئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 13.7 فیصد زیادہ ہیں، جبکہ گزشتہ چار برسوں میں فروخت میں 38.7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ اقدام  جرمنی، ناروے، پولینڈ اور دیگر یورپی ممالک کی طرز پر کیا جا رہا ہے، جہاں پہلے ہی ایسے قوانین نافذ کیے جا چکے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی اسپین میں تعلیمی اداروں میں انرجی ڈرنکس کی فروخت پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔