پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک نے مقبوضہ یروشلم میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی عبادت پر عائد اسرائیلی پابندیوں کی شدید ترین مذمت کی ہے۔
پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ یروشلم میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی عبادت پر عائد اسرائیلی پابندیوں کی شدید ترین مذمت کرتے ہوئے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ اور عیسائیوں کو چرچ آف ہولی سیپلکر تک رسائی سے روکنا قابل مذمت ہے اور مسجد اقصیٰ میں نمازیوں کے داخلے پر پابندی بھی ناقابل قبول ہے۔ اعلامیے میں عیسائیوں کو پام سنڈے کی عبادت سے روکنے کی بھی شدید مذمت کی گئی ہے۔
مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے واضح کیا ہے کہ یروشلم کے مقدس مقامات کی قانونی اور تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو رد کیا جاتا ہے، اور اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قانون اور انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
مزید پڑھیں: حزب اللہ جیت گئی، غصے میں بھرے اسرائیلی میئر نے حقیقت بیان کردی
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عبادت گاہوں تک بلا رکاوٹ رسائی ہر مذہب کا بنیادی حق ہے اور مقبوضہ یروشلم پر اسرائیل کی کوئی خودمختاری تسلیم نہیں۔ اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف تمام پابندیاں فوری ختم کی جائیں۔
مسلم ممالک نے مسجد اقصیٰ کے دروازے 30 روز تک بند رکھنے کو شدید اشتعال انگیزی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ رمضان المبارک میں عبادت پر پابندیاں عائد کرکے اسرائیل نے عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کا مکمل 144 دونم رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، اسرائیل فوری طور پر تمام رکاوٹیں ختم کرے اور نمازیوں کو رسائی دے، اور پرانے شہر یروشلم میں داخلے کی پابندیاں بھی ختم ہوں۔
وزرائے خارجہ نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل کو غیر قانونی اقدامات روکنے پر مجبور کرے اور مقدس مقامات کی بے حرمتی ہرگز برداشت نہ کی جائے۔
















