پھل اور سبزیاں وٹامنز، منرلز، اینٹی آکسائیڈنٹس اور نباتاتی مرکبات سے بھرپور ہوتے ہیں جو مختلف امراض سے تحفط بھی فراہم کرسکتے ہیں۔
سبزیاں اور پھل صحت کے لیے بہت فائدہ مند ہوتے ہیں اور ان کے استعمال سے دائمی امراض جیسے امراض قلب اور کینسر کا خطرہ بھی کم ہوسکتا ہے۔
سبزیوں کو ترکاری کے طور پر پکا کر کھانا عام ہے لیکن اگر سبزیوں کا جوس پینے کی بات کی جائے تو اکثر لوگ اس سے کتراتے ہیں۔
اسی جگہ پھلوں کو کاٹ کر اور جوس بنا کر بھی پینا سب ہی کو پسند ہوتا ہے، لیکن اکثر لوگ اس بات کو لے کر اُلجھے ہوتے ہیں کہ آخر پھلوں اور سبزیوں کو کاٹ کر کھانا زیادہ مفید ہے یا پھر ان کا جوس بنا کر پینا۔
جوس پینا پسند کرنے والے افراد کا دعویٰ ہے کہ اس سے پھلوں اور سبزیوں میں موجود اجزا کو جذب کرنے کا عمل بہتر ہوتا ہے جبکہ مخالفین کا ماننا ہے کہ جوسز سے اہم غذائی اجزا جیسے فائبر نکل جاتا ہے۔
تو پھلوں اور سبزیوں کو ان کی ٹھوس شکل میں کھانا بہتر ہے یا جوس، ماہرینِ صحت اس حوالے سے کیا کہتے ہیں آیئے جانتے ہیں۔
جوس استعمال کرنے کا مقصد
عام طور پر پھلوں یا سبزیوں کو جوس کی شکل میں استعمال 2 مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے۔
کچھ افراد کا ماننا ہے کہ جوس کا استعمال جسم کے اندر سے زہریلے مواد کے اخراج کو یقینی بناتا ہے مگر اس خیال کو حتمی بنانے کے لیے کوئی شواہد موجود نہیں۔
دوسرا مقصد پھلوں کو روزمرہ کی غذا میں سپلیمنٹ کے طور پر استعمال کرنا ہوتا ہے تاکہ پھلوں اور سبزیوں میں موجود غذائی اجزا کا استعمال بڑھ سکے۔
تاہم ایک بات یہ بھی ہے کہ اگر آپ کے لیے غذا میں روزانہ پھلوں اور سبزیوں کی تجویز کردہ مقدار کا استعمال مشکل ہے تو جوس پی کر اس کا حصول کا باآسانی یقینی بناتا جا سکتا ہے۔
اس حوالے سے تحقیق کیا کہتی ہے؟
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 14 ہفتوں تک پھلوں اور سبزیوں کے جوسز کے امتزاج کے استعمال سے لوگوں میں بیٹا کیروٹین، وٹامن سی، ای، سلینیم اور فولیٹ کی سطح میں اضافہ ہوا۔
جبکہ ایک اور تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تازہ پھلوں و سبزیوں کا جوس پینے سے فولیٹ اور اینٹی آکسائیڈنٹس کی سطح بہتر ہوئی۔
پھلوں اور سبزیوں کے جوس کے استعمال سے امراض قلب کا خطرہ کسی حد تک کم ہو سکتا ہے، سیب اور انار کے جوس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح میں کمی لاسکتے ہیں۔
مگر ماہرین کا ماننا ہے کہ ان نتائج کے باوجود جوسز کے طبی اثرات کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
وزن کی کمی کے لئے جوس کا استعمال
بیشتر افراد جسمانی وزن میں کمی کے لیے جوسز کو ترجیح دیتے ہیں، جوس ڈائٹ میں زیادہ تر دن بھر میں 600 سے ایک ہزار کیلوریز جوسز کی شکل میں استعمال کی جاتی ہیں جس سے جسم کو کیلوریز کی شدید کمی کا سامنا ہوتا ہے اور وزن تیزی سے کم ہوتا ہے۔
تاہم اگر جوس کے فوائد ہیں تو اس کے چند نقصانات بھی ہیں
جوسز کے نقصانات
گردوں کے مرض میں مبتلا افراد اگر زیادہ مقدار میں جوسز کا استعمال کریں تو گردے فیل ہونے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
جوس کو بنا شکر کے پیا کریں کیونکہ پھلوں میں قدرتی مٹھاس موجود ہوتی ہے، لیکن بہت زیادہ مقدار میں قدرتی شکر کا استعمال بھی ہائی بلڈ شوگر، جسمانی وزن میں اضافے اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھا دیتا ہے، اس لئے جوس کا استعمال ضرورت سے زیادہ کرنے سے بھی گریز کرنا چاہیئے۔
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ فروٹ جوس پینے والوں میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جبکہ پھلوں کو کھانے سے یہ خطرہ کم ہوتا ہے۔




















