Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

جسم کے مخصوص مقامات پر دوا پہچانے والا روبوٹ تیار

محققین نے ایک ایسا مائیکرو روبوٹ تیار کیا ہے جو فالج سے متاثرہ مقام پرادویات پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے

محققین نے ایک ایسا مائیکرو روبوٹ تیار کیا ہے جو فالج سے متاثرہ مقام پرادویات پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور امکان ہے کہ اسے مستقبل قریب میں اسپتالوں میں استعمال کیا جا سکے گا۔

دنیا بھر میں ہر سال 1 کروڑ 20 لاکھ افراد فالج میں مبتلا ہوتے ہیں ان میں سے کچھ جان کی بازی ہار جاتے ہیں یا عمر بھر کی معذوری کا سامنا کرتے ہیں۔

فالج ایک ایسا مرض ہے جس میں دماغ کی کسی شریان میں بلڈ کلوٹ کے باعث خون کی روانی عارضی طور پر متاثر ہونے لگتی ہے، اگر فوری طور پربلڈ کلوٹ کو تحلیل کرنے کے لیے طبی مدد فراہم کی جائے تو پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔

فالج کے نتیجے میں عموماً بلڈ کلوٹ کو تحلیل کرنے کےلیے زیادہ مقدار میں ادویات دی جاتی ہیں تاکہ وہ متاثرہ مقام تک پہنچ سکے تاہم ایسی صورت میں یہ ادویات جو پورے جسم میں پھیل جاتی ہیں، جس سے سنگین ضمنی اثرات سامنے آتے ہیں۔

چونکہ فالج کی صورت میں ادویات اکثر جسم کے مخصوص حصوں میں ہی درکار ہوتی ہیں، اس لیے طبی تحقیق کافی عرصے سے ایسے مائیکرو روبوٹس کی تلاش میں تھی جو دوائیں وہیں پہنچائیں جہاں ان کی ضرورت ہو۔

تاہم اب ای ٹی ایچ زیورِخ کے محققین نے حل پذیر جیل شیل سے بنا گول کیپسول سے مشابہ مائیکرو روبوٹ تیار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قالین دھونے والا دنیا کا پہلا روبوٹ متعارف

اس حیرت انگیز روبوٹ کو مقناطیسی طریقے سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور جسم کے اندر مطلوبہ مقام تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ کیپسول میں موجود آئرن آکسائیڈ نینو ذرّات اسے مقناطیسی خصوصیات فراہم کرتے ہیں۔

سب سے پہلے مائیکرو روبوٹس میں ادویات کو لوڈ کیا جاتا ہے پھر ان ادویات کو ہائی فریکوئنسی مقناطیسی میدان کے ذریعے چھوڑا جاتا ہے جو مقناطیسی نینو ذرّات کو گرم کر کے کیپسول کے جیل شیل کو تحلیل کر دیتا ہے۔

محققین نے مائیکرو روبوٹ کو ہدف تک پہنچانے کے لیے مرحلہ وارحکمتِ عملی اپنائی، پہلے اسے کیتھیٹر کے ذریعے خون یا دماغی رطوبت میں داخل کیا گیا۔ پھر انہوں نے الیکٹرو میگنیٹک نیویگیشن سسٹم استعمال کرتے ہوئے مقناطیسی مائیکرو روبوٹ کو ہدف تک پہنچایا۔ کیتھیٹر کا ڈیزائن تجارتی ماڈل پر مبنی ہے، جس میں ایک اندرونی گائیڈ وائر ہوتا ہے جو ایک لچکدار پولیمر گریپر سے جڑا ہوتا ہے۔ جب اسے باہر کی سمت دھکیلا جاتا ہے تو گریپر کھل جاتا ہے اور مائیکرو روبوٹ کو آزاد کر دیتا ہے۔

مائیکرو روبوٹس کو درست طور پر موڑنے کے لیے، محققین نے ایک ماڈیولر الیکٹرو میگنیٹک نیویگیشن سسٹم تیار کیا جو آپریٹنگ تھیٹر میں استعمال کے قابل ہے۔

اس سے وہ گھومتے ہوئے مقناطیسی میدان کے ذریعے کیپسول کو رگ کی دیوار کے ساتھ رول کر کیا جاسکتا ہے۔ کیپسول کو 4 ملی میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے انتہائی درستگی کے ساتھ ہدف پر پہنچایا جا سکتا ہے، اس طرح دوا درست مقام تک پہنچ کر بلڈ کلوٹ کو تحلیل کر سکتی ہے۔