کیف: یوکرین روس کے خلاف جنگ میں شدید افرادی قلت، کم ہوتے مالی ذخائر اور ڈگمگاتی فوجی مورال کے باعث فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوتا جا رہا ہے۔
عالمی ذرائع ابلاغ نے ماہرین کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملک کی واحد امید اس کے سیاسی اور عسکری نظام کی مکمل ازسرنو تشکیل ہے۔
مزید پڑھیں: روس یوکرین جنگ کے خاتمے کیلئے ٹرمپ کا 28نکاتی امن منصوبہ سامنے آگیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد کہ وہ 24 گھنٹوں میں جنگ ختم کر سکتے ہیں، دنیا بھر میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ آیا وہ روس اور یوکرین کو کسی سمجھوتے پر مجبور کر پائیں گے۔
تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے پاس روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر کوئی مؤثر دباؤ ڈالنے کی قوت نہیں ہے، نہ ہی امریکا یا یورپ میں کوئی لیڈر ایسا سخت دباؤ ڈالنے کو تیار ہے جس سے مغربی معیشت کو نقصان پہنچے۔
نیٹو نے جنگ کے آغاز میں ہی فیصلہ کیا تھا کہ وہ یوکرین کو اسلحہ اور تربیت تو دے گا لیکن براہِ راست روس کے ساتھ جنگ کا خطرہ مول نہیں لے گا۔ یہی پالیسی آج بھی برقرار ہے، جس کے نتیجے میں یوکرین اپنی بقا کی جنگ تنہا لڑ رہا ہے۔
گزشتہ مہینوں میں امن مذاکرات یا جنگ بندی کی باتیں محض وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی ثابت ہوئیں۔
مزید پڑھیں: پیوٹن نے روس اور یوکرین کے ابوظہبی میں خفیہ مذاکرات کا انکشاف کر دیا
روس مسلسل بڑے علاقائی مطالبات اور یوکرینی افواج کے انخلا پر زور دے رہا ہے، جبکہ کیف کسی بھی علاقہ چھوڑنے سے انکاری ہے۔
امن کی راہ مسدود ہونے کے بعد امریکا نے یوکرین کو اسلحے کی فراہمی تقریباً روک دی ہے، جس کا الزام سرکاری سطح پر بجٹ تعطل پر ڈالا جا رہا ہے، تاہم مبصرین اس کے پس منظر میں سیاسی ترجیحات میں تبدیلی دیکھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کی حکمت عملی یوکرین ہی نہیں بلکہ اس کے مغربی اتحادیوں کے صبر اور اتحاد کو تھکانے پر مبنی ہے۔ مغربی امداد میں کمی، مسلسل لڑائی اور گرتی ہوئی آبادی نے یوکرین کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں فیصلہ کن تبدیلی کے بغیر جنگ کا سلسلہ برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔



















