Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

گیمبلنگ ایپس کے نقصان؛ نوجوانوں اور معاشرے کے لیے ایک سنگین خطرہ

آج کے ڈیجیٹل دور میں جوئے اور بیٹنگ اب براہِ راست موبائل فونز اور اسمارٹ ایپس کے ذریعے ہر ہاتھ میں پہنچ چکے ہیں۔

آج کے ڈیجیٹل دور میں جوئے اور بیٹنگ صرف کسینو، خفیہ اڈوں یا مخصوص حلقوں تک محدود نہیں رہے بلکہ اب یہ براہِ راست موبائل فونز اور اسمارٹ ایپس کے ذریعے ہر ہاتھ میں پہنچ چکے ہیں۔

گیمبلنگ ایپس نے جوئے کو اس حد تک آسان بنادیا ہے کہ چند کلکس کے ذریعے کوئی بھی شخص اس دلدل میں باآسانی اتر جاتا ہے جن میں بڑی تعداد نوجوان نسل کی ہے۔

یہ ایپس بظاہر تفریح، مقابلے اور اسکلز گیم کے نام پر پیش کی جاتی ہیں لیکن حقیقت میں ان کے اثرات حقیقی زندگی میں تباہ کن ثابت ہورہے ہیں۔

یہ رپورٹ مختلف سائنسی تحقیقات، رپورٹس اور عالمی ڈیٹا کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے جس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ گیمبلنگ ایپس کیوں نقصان دہ ہیں اور ان کے طویل المدتی اثرات افراد، خاندان اور پورے معاشرے پر کیسے مرتب ہورہے ہیں۔

جب جوا بیماری بن جائے

بین الاقوامی تحقیق بتاتی ہیں کہ جوئے سے منسلک نقصانات کی نوعیت محض مالی نہیں بلکہ یہ ایک صحت کا سنجیدہ مسئلہ بنتا جارہا ہے۔

تحقیقی مطالعات کے تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ آن لائن اور موبائل گیمبلنگ نوجوانوں اور کم عمر افراد پر زیادہ نقصان کا سبب بنتی ہے جس میں مالی خسارے کے ساتھ ساتھ نفسیاتی اور سماجی مسائل شامل ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق موبائل گیمبلنگ کی سب سے خطرناک بات اس کی مسلسل اور آسان دستیابی ہے۔ موبائل فون ہر وقت جیب میں موجود ہوتا ہے جس کے باعث جوا کھیلنے کا عمل کسی مخصوص وقت یا جگہ کا محتاج نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عادت آہستہ آہستہ ایک نشے کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔

سائنسدانوں کہتے ہیں کہ موبائل گیمبلنگ صارفین کے دماغ میں وہی کیمیائی ردِعمل پیدا کرتی ہے جو دیگر نشہ آور عادات میں دیکھا جاتا ہے جس سے انسان بار بار کھیلنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

نوجوانوں میں بڑھتا ہوا مسئلہ اور ذہنی صحت پر اثرات

گیمبلنگ ایپس اس وقت نوجوانوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنتی جارہی ہیں۔ برطانوی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ 13 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً 90 فیصد بچوں نے سوشل میڈیا پر جوئے اور بیٹنگ سے متعلق اشتہارات دیکھے جس کے بعد ان میں گیمبلنگ کرنے کی خواہش میں واضح اضافہ ہوا۔

یہ اشتہارات مختلف ڈیزائن، مشہور شخصیات اور فوری جیت کی لالچ کے ذریعے نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

کم عمر افراد ابھی فیصلہ سازی کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتے جس کی وجہ سے وہ ان ایپس کے خطرات کو سمجھے بغیر استعمال شروع کردیتے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہی رجحان تیزی سے سامنے آرہا ہے۔

مختلف رپورٹس کے مطابق نوجوانوں میں گیمبلنگ ایپس کے ذریعے مالی نقصان، ذہنی دباؤ، غصے کے مسائل اور رویّوں کی تبدیلی دیکھی جارہی ہے۔

کئی کیسز میں نوجوان اپنی تعلیم سے غافل ہوجاتے ہیں جس کے باعث اب جئ تعلیمی کارکردگی شدید متاثر ہوتی ہے۔

ایک نہ ختم ہونے والا چکر

گیمبلنگ ایپس صارفین کو آسان پیسہ کمانے کے جھانسے میں پھنساتی ہیں۔ ابتدا میں صارف کو معمولی رقم جیتنے دی جاتی ہے تاکہ اس کا اعتماد بڑھے اور وہ ایپ پر زیادہ وقت گزارے۔

چھوٹی جیت کے بعد صارف بڑی رقم لگانے لگتا ہے جس کے نتیجے میں بڑے مالی نقصان ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اکثر لوگ ہارنے کے بعد یہ سوچ کر مزید رقم لگاتے ہیں کہ شاید اگلی بار نقصان پورا ہوجائے لیکن حقیقت میں یہ نقصان مزید بڑھ جاتا ہے۔

یہی عادات گیمبلنگ ایپس کا اصل ہدف ہوتا ہے۔ اشتہارات، بونس، فری کریڈٹس اور محدود وقت کی آفرز کے ذریعے صارف کو بار بار کھیلنے پر اکسایا جاتا ہے جس سے وہ مالی طور پر کمزور اور نفسیاتی طور پر مزید الجھتا چلا جاتا ہے۔

خودکشی کی شرح

گیمبلنگ ایپس کی وجہ سے خودکشیوں کے درست عالمی اعداد و شمار بتانا مشکل ہے کیونکہ بہت سے کیسز رپورٹ نہیں ہوتے یا پھر انہیں مالی پریشانی کے باعث خودکشی کے طور پر درج کیا جاتا ہے۔

طبی تحقیقات کے مطابق جوئے کی لت میں مبتلا ہر 5 میں سے 1 شخص خودکشی کی کوشش کرتا ہے جب کہ سوئیڈن میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق جوئے کی لت کے شکار افراد میں عام آبادی کے مقابلے میں خودکشی کا خطرہ 15 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ میں کی گئی ایک تحقیق میں پایا گیا ہے کہ کم از کم 4.2 فیصد خودکشیاں براہ سات جوئے سے منسلک تھیں۔

دوسری جانب بھارتی رہاست تامل ناڈو میں جوئے کی وجہ سے درجنوں خودکشیوں کے بعد حکومت نے ایسی ایپس پر پابندی لگانے کی سفارش کی ہے جب کہ بھارتی شہر حیدرآباد میں بھی 2025 کے دوران جوئے کی ایپس سے متعلق خودکشیوں میں نمایاں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔

دماغی اور نفسیاتی اثرات

تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ موبائل گیمبلنگ انسانی دماغ کے فیصلہ سازی کے نظام کو متاثر کرتی ہے۔ بار بار گیمبلنگ کرنے سے دماغ ایک غیر صحت مند عادت سیکھ لیتا ہے جس کے نتیجے میں نشے جیسا مزاج پیدا ہوجاتا ہے۔

ایسے افراد میں ذہنی دباؤ، اضطراب، چڑچڑاپن اور مایوسی عام ہوجاتی ہے۔ کئی کیسز میں سماجی تعلقات کمزور پڑجاتے ہیں کیونکہ ایسا فرد اپنی توجہ خاندان اور دوستوں کے بجائے ایپ پر مرکوز رکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق طویل المدتی بنیادوں پر یہ نفسیاتی مسائل ڈپریشن، تنہائی اور خود اعتمادی میں شدید کمی کا سبب بھی بن سکتے ہیں جو زندگی کے دیگر پہلوؤں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

مستقبل کے خطرات

پاکستان میں گیمبلنگ ایپس کی غیر قانونی پروموشن اور تشہیر کے خلاف تحقیقات شروع ہوچکی ہیں۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے ایسے افراد کو طلب کیا ہے جنہوں نے غیر لائسنس یافتہ گیمبلنگ ایپس کو فروغ دے کر نوجوانوں کو نقصان پہنچایا۔

قانونی ماہرین کے مطابق آن لائن گیمبلنگ نہ صرف مالی جرائم بلکہ فراڈ، منی لانڈرنگ اور سائبر کرائم جیسے مسائل کو بھی جنم دے سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر بھی ماہرین کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے گیمبلنگ ایپس کی مارکیٹنگ پر سخت قوانین اور پابندیاں لگانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

ڈکی بھائی کا کیس

پاکستان کے معروف یوٹیوبر سعد الرحمان عرف (ڈکی بھائی) کے خلاف جوئے کی ایپس کو فروغ دینے کا کیس تو سب ہی کو معلوم ہے جس میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے جون 2025 میں تحقیقات کا آغاز کیا۔

ان پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خاص طور پر یوٹیوب پر غیر قانونی جوئے اور بیٹنگ کی ایپس کی تشہیر کی۔

اس کیس میں ڈکی بھائی کو 17 اگست 2025 کو لاہور ایئرپورٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ملک سے باہر جانے کی کوشش کررہے تھے۔ ان کا نام پہلے ہی پروویژنل نیشنل آئیڈینٹی فیکیشن لسٹ میں شامل کیا جاچکا تھا۔

ان کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 (پیکا) کے تحت الیکٹرانک فراڈ، جعلسازی اور اسپیمنگ کی دفعات لگائی گئیں۔ ایف آئی آر کے مطابق ان ایپس کی تشہیر کی وجہ سے عام شہریوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

گرفتاری کے بعد ڈکی بھائی کو کئی بار جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجا گیا۔ دورانِ حراست انہوں نے تشدد اور بدسلوکی کے الزامات بھی لگائے جس کے بعد ایف آئی اے نے اختیارات کے ناجائز استعمال پر 6 اہلکاروں کو گرفتار کیا۔

طویل قانونی جنگ کے بعد 24 نومبر 2025 کو لاہور ہائی کورٹ نے ڈکی بھائی کی ضمانت منظور کی اور انہیں 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔

گیمبلنگ ایپس صرف کھیل نہیں، ایک سماجی بحران

گیمبلنگ ایپس کے نقصانات محض مالی نہیں بلکہ یہ نوجوانوں کی ذہنی صحت، تعلیمی زندگی، سماجی تعلقات اور خاندانی نظام پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔

یہ ایپس سوشل میڈیا کے ذریعے تیزی سے عوام تک پہنچتی ہیں، صارفین کو آسان جیت کے لالچ میں پھنساتی ہیں اور آخرکار گہرا مالی اور نفسیاتی نقصان چھوڑ جاتی ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین، اساتذہ، پالیسی ساز ادارے اور معاشرہ مجموعی طور پر اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں۔

نوجوانوں کو اس خطرے سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مثبت، تعمیری اور محفوظ سرگرمیوں کی طرف رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ آنے والی نسل کو ایک بڑے سماجی بحران سے بچایا جاسکے۔