Site icon بول نیوز

ضمنی انتخابات، 13 حلقوں کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق لیگی امیدوار سب سے آگے

قومی و صوبائی اسمبلی کے 13 حلقوں میں ضمنی انتخابات کیلئے پولنگ کا عمل جاری

قومی و صوبائی اسمبلی کے 13 حلقوں میں ضمنی انتخابات میں پولنگ کا وقت ختم ہو گیا ہے جب کے اس وقت ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور مختلف پولنگ اسٹیشز سے غیر سرکاری نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں جس کے مطابق اس وقت پاکستان مسلم لیگ کے امیدوار اپنے اپنے حریفوں پر بھاری ہیں۔

ملک بھر میں قومی اسمبلی کے 6 اور پنجاب اسمبلی کے 7 حلقوں میں ضمنی انتخابات کیلئے پولنگ کا عمل جو صبح 8 بجے سے جاری تھا شام 5 بجے ختم ہو گیا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو بلا وقفہ شام 5 بجے تک جاری رہی۔

تفصیلات کے مطابق اس وقت مختلف پولنگ اسٹیشنز میں گنتی کا عمل شروع ہو گیا ہے جبکہ جن پولنگ اسٹیشنز کے اندر ووٹرز موجود تھے ان کے ووٹ کاسٹ کیے جارہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، ہری پور، لاہور، فیصل آباد، ساہیوال، ڈیرہ غازی خان، سرگودھا، میانوالی اور مظفرگڑھ سمیت 13 حلقوں میں ضمنی انتخابات ہوئے ہیں۔ ان حلقوں کے غیر سرکاری نتائج سے مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کی پوزیشنز واضح ہو رہی ہیں۔

این اے 185 ڈی جی خان

حلقے کے 56 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے امیدوار محمود قادر لغاری 21223 ووٹ لے کر آگے جبکہ پیپلزپارٹی کے امیدوار سردار دوست کھوسہ 9602 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

چیچہ وطنی: این اے 143 ضمنی انتخابات

اس حلقے کے 363 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے چوہدری محمد طفیل جٹ 110891 ووٹ لیکر آگے جبکہ آزاد امیدوار ضرار اکبر 10375 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

ہری پور، این اے 18

141 پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے بابر نواز 44680 ووٹ لے کر پہلے جبکہ آزاد امیدوار شہر ناز 41814 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

لاہور: این اے 129

اس حلقے کے 85 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے حافظ نعمان 9150 ووٹ لیکر آگے، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ چوہدری ارسلان 5655 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

فیصل آباد: حلقہ نمبراین اے 96

80 پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار بلال چوہدری 16355 ووٹ لے کر پہلے جبکہ آزاد امیدوار ملک نواب شیر وسیر 7132 ووٹ دوسرے نمبر پر ہیں۔

مظفرگڑھ: پی پی 269

63 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی پی پی کے میاں علم دارقریشی 23227 ووٹ لیکر آگے جبکہ آزاد امیدوار اقبال پتافی 13444 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

میانوالی: حلقہ پی پی 87

7 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق علی حیدرنور خان  3684 لے کر آگے جبکہ نوابزادہ ایاز خان 240 لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

فیصل آباد: پی پی 98

ووٹنگ ختم ہونے کے بعد گنتی کا عمل جاری ہے

فیصل آباد، پی پی 115

20 پولنگ کے اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے محمد طاہر پرویز 4521 ووٹ لے کر پہلے جبکہ آزاد امیدوار محمد اصغر نے 2012 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

فیصل آباد: پی پی 116

ووٹنگ ختم ہونے کے بعد گنتی کا عمل جاری ہے

ساہیوال: پی پی 203

161 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطبق مسلم لیگ ن کے چوہدری محمد حنیف جٹ 40109 ووٹ لیکر آگے جبکہ آزاد امیدوار فلک شیر ڈوگر9481 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

سرگودھا،پی پی 73

42 پولنگ اسٹیشن کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق ن لیگ کے سلطان علی رانجھا 14831 ووٹ کے ساتھ پہلے جبکہ آزاد امیدوار حارث رانجھا 1700 ووٹ دوسرے نمبر پر ہیں۔

سیکیورٹی اداروں کی جانب سے پولنگ کے دوران سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر 2792 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے جن میں 408 انتہائی حساس اور 1032 حساس قرار دیے گئے ہیں۔

انتخابی علاقوں میں 2000 سے زائد اہلکار تعینات ہیں جبکہ عوام کو بلاخوف و خطر ووٹ ڈالنے کی اپیل کی گئی ہے۔

قومی اسمبلی

ہری پور کے این اے 18 میں 9 امیدوار مدمقابل ہیں جن میں پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار شہرناز، مسلم لیگ ن کے بابر نواز خان، پیپلز پارٹی کی ارم فاطمہ شامل ہیں، تاہم یہ نشست پی ٹی آئی کے عمر ایوب کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی۔

این اے 96 میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور آزاد امیدواروں سمیت 16 امیدوار حصہ لے رہے ہیں، حلقے میں مرد ووٹرز کی تعداد 3 لاکھ 72 ہزار 133 جبکہ خواتین ووٹرز 2 لاکھ 72 ہزار 991 ہے۔

این اے 104 میں ن لیگ کے راجہ دانیال اور آزاد امیدوار رانا عدنان جاوید سمیت 5 امیدوار میدان میں ہیں۔

قومی اسمبلی کے حلقے میں کل 5 لاکھ 57 ہزار 637 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

لاہور کے این اے 129 حلقے میں مسلم لیگ ن کے حافظ محمد نعمان، آزاد امیدوار بجاش خان نیازی اور ارسلان احمد کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

اس اہم حلقے میں مجموعی طور پر 334 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گے ہیں جبکہ 70 پولنگ اسٹیشنز مرد و خواتین کے مشترکہ ہوں گے، تاہم اس نشست پر ضمنی انتخاب میاں اظہر کے انتقال کے باعث ہو رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق این اے 129 لاہور کا سیاسی طور پر فیصلہ کن حلقہ ہے جس کے نتائج شہر کی مجموعی سیاسی سمت پر اثرانداز ہوں گے۔

ساہیوال کے تیسرے بڑے حلقے این اے 143 میں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے جبکہ کل رجسٹر ووٹرز کی تعداد 584,698 ہے۔

این اے 185 میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کے امیدوار میدان میں ہیں۔ تینوں جماعتوں میں سخت مقابلہ متوقع ہے۔

وزیرآباد کے این اے 66 کے حلقے میں پیپلز پارٹی اور دیگر امیدواروں کی دستبرداری کے بعد مسلم لیگ ن کے بلال فاروق تارڑ بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔

پنجاب اسمبلی

حلقہ پی پی 87 میانوالی 3 میں 193 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، مجموعی طور حلقہ بھر میں 640 پولنگ بوتھ قائم ہیں جن میں 332 مردانہ اور 308 خواتین کے پولنگ بوتھ ہیں جبکہ کل رجسڑڈ ووٹر کی تعداد 283272 ہے۔

سیکیورٹی ہائی الرٹ

پنجاب کے قومی و صوبائی حلقوں میں ضمنی انتخابات کیلئے پولیس نے سیکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے، تاہم سکیورٹی پر 20 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق ووٹرز کو پرامن ماحول فراہم کیا جائے گا، ضابطہ اخلاق اور دفعہ 144 کی سختی سے پابندی کروائی جائے گی جبکہ انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی مانیٹرنگ جاری ہے۔

Exit mobile version