Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

داعش افغانستان میں موجود ،وہیں تشکیل نو ہو رہی ہے ، ترجمان دفتر خارجہ

یو اے ای نے پاکستان کے حوالے س کوئی نئی پابندی عائد کی نہ ہی کوئی نئی قانون سازی کی گئی,طاہر حسین اندرابی

داعش افغانستان میں موجود ،وہیں تشکیل نو ہو رہی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ افغان الزمات یکسر مسترد کردیے۔

انہوں نے کہاکہ  دہشتگرد تنظیمیں افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان مخالف کارروائیاں کر رہی ہیں۔ ترجمان نے ڈاکٹر علی لاریجانی کے بلینک چیک والے بیان کا بھی خیرمقدم کیا۔

ترجمان کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان ثالثی کی کوئی ٹھوس پیشکش پاکستان کے علم میں نہیں ہے۔

ان کا کہناتھاکہ  میڈیا رپورٹس ضرور موجود ہیں لیکن ان کی کوئی سرکاری بنیاد نہیں۔ پاکستان ایسی کسی بھی پختہ پیشکش کا خیرمقدم کرے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ  پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے پر مشاورت جاری ہے اور دونوں ممالک اس کا باہمی حل نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاک ایران گیس پائپ لائن کا معاملہ خوش اسلوبی سے طے پا جائے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ کی  یو اے ای ویزوں سے متعلق وضاحت

ترجمان نے متحدہ عرب امارات سے متعلق پھیلائی جانے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یو اے ای نے پاکستان کے حوالے سے نہ کوئی نئی پابندی عائد کی ہے اور نہ ہی کوئی نئی قانون سازی کی گئی ہے۔

انہوں نے پاکستانی سفیر شفقت علی خان نے بھی ایسی تمام خبروں کو غلط قرار دیا ہے۔

ترجمان کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو ممکنہ طور پر پرانے ریکارڈ کی بنیاد پر بریفنگ دی گئی ہو۔

بھارتی بیانات پر ردعمل

ترجمان نے بھارتی وزیر دفاع کے حالیہ متنازعہ بیان کو نفرت انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بیان عالمی قوانین کی پاسداری سے متعلق اداروں میں الارم کا باعث بنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ قیام پاکستان میں پہلا صوبہ تھا جس نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا، لہٰذا بھارت کو اشتعال انگیز بیانات سے باز رہنا چاہیے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت آبی ڈیٹا شیئر نہیں کر رہا جو نہایت افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ  جب کہ بھارت کے یہ رجحانات پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

طاہر حسین اندرابی  نے کہاکہ پاکستان اس معاملے کو مسلسل فالو اپ کر رہا ہے اور ویانا میں غیر جانبدار ماہرین کے اجلاس میں بھی یہ مسئلہ اٹھایا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو تیسرے ممالک میں آباد ہونے کے منتظر افغان شہریوں کی روانگی میں غیر ضروری تاخیر پر شدید تحفظات ہیں۔ جو ممالک افغان مہاجرین کی آبادکاری کا وعدہ کر چکے ہیں۔