کراچی کے گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کے دوران اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے آگ لگنے کی مکمل ٹائم لائن تیار کرلی گئی ہے۔
موصول ہونے والی فوٹیج کے مطابق پلازہ کے پچھلے حصے میں ہفتے کی رات 10 بجکر 7 منٹ پر آگ بھڑکی جبکہ 10 بجکر 8 منٹ پر دھواں اٹھنا شروع ہوا۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ 10 بجکر 12 منٹ پر آگ کے شعلے واضح طور پر نظر آنے لگے اور اسی وقت ایمبولینسز موقع پر پہنچنا شروع ہو گئیں۔
سی سی ٹی وی ریکارڈ کے مطابق گل پلازہ کے ایم اے جناح روڈ کی جانب 10 بجکر 18 سے 19 منٹ کے درمیان آگ دیکھی گئی جبکہ چند ہی لمحوں میں فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بھی جائے وقوعہ پر پہنچنا شروع ہو گئیں۔
ذرائع کے مطابق آگ کو پچھلے حصے سے اگلے حصے تک پھیلنے میں تقریباً 11 منٹ لگے۔
تحقیقات میں یہ معلوم ہوا ہے کہ گل پلازہ میں مجموعی طور پر 16 داخلی دروازے موجود تھے، تاہم حادثے کے وقت ان میں سے بیشتر بند تھے، صرف 2 دروازے کھلے تھے جن کے ذریعے لوگ باہر نکلنے کی کوشش کرتے رہے۔
ذرائع نے بتایا کہ آتشزدگی کے دوران اندر پھنسے افراد نے ایک دروازہ توڑ کر باہر نکلنے کی بھی کوشش کی۔
واقعے کی تحقیقات کے لیے بم ڈسپوزل اسکواڈ نے 2 مختلف مقامات سے شواہد اکٹھے کیے، جن میں ایک مصنوعی پھولوں کی دکان سمیت دیگر مقامات سے مجموعی طور پر 6 نمونے حاصل کیے گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کی لاشوں کے کیمیائی تجزیے کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے، جس کے ذریعے جسمانی زخموں اور اموات کی نوعیت کا تعین کیا جائے گا۔
تاہم، آتشزدگی کے دوران مارکیٹ انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کے کردار کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔


















