کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازہ کو مکمل گرانے کا اعلان کرتے ہوئے اسے دو سال میں تیار کرکے تاجروں کے حوالے بھی کرنے کا اعلان کردیا۔
کراچی کے علاقے میں پیش آنے والے گل پلازہ آتشزدگی کے المناک واقعے پر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ جاں بحق افراد کی لاشوں کی شناخت مکمل کرواکے انہیں لواحقین کے حوالے کیا جائے گا جب کہ اس سانحے کے ذمہ دار عناصر کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا اور کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے صوبائی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے واقعے کی ٹائم لائن بتائی۔ انہوں نے کہا کہ گل پلازہ میں دس بج کر چودہ منٹ پر گراؤنڈ فلور کی ایک دکان میں آگ لگی جب کہ دس بج کر چھبیس منٹ پر فائر بریگیڈ کو اطلاع دی گئی۔
انہوں نے بتایا ریسکیو 1122 کو دس بج کر چھتیس منٹ پر کال کی گئی اور آگ لگنے کے صرف سولہ منٹ بعد ڈپٹی کمشنر ساؤتھ موقع پر پہنچ چکے تھے۔
مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ واقعے کی مکمل انکوائری جاری ہے اور اگر کسی سرکاری ادارے یا افسر کی غفلت ثابت ہوئی تو اس کے خلاف بھی سخت کارروائی ہوگی۔ کسی کی نیت پر شک نہیں مگر اس افسوسناک سانحے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے تھی۔
اسمبلی میں گرما گرم بحث
تقریر کے دوران جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق اپنی نشست سے کھڑے ہوگئے اور کہا کہ وزیر اعلیٰ غلط بیانی کر رہے ہیں، ڈی سی موقع پر نہیں پہنچے تھے۔ اس پر مراد علی شاہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’کہنا نہیں چاہتا تھا مگر چور کی داڑھی میں تنکا‘‘۔
گل پلازہ کی لیز اور تعمیراتی پس منظر
وزیر اعلیٰ سندھ نے گل پلازہ کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ کی لیز کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) نے منظور کی تھی۔ عمارت کی تعمیر 80 کی دہائی میں مکمل ہوئی اور 1991 میں کے ایم سی نے لیز میں توسیع کی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس وقت کے ایم سی میں کون تھا اور اس دور میں میئر کے عہدے پر نعمت اللہ خان اور اس سے قبل فاروق ستار رہے۔
انہوں نے کہا کہ 1979 میں گل پلازہ کو بیسمنٹ، گراؤنڈ اور دو فلور کی منظوری دی گئی تھی جب کہ بعد میں آنے والے ایک آرڈیننس کے تحت کئی عمارتوں کی بے ضابطگیوں کو کاغذی طور پر درست کیا گیا۔ پلازہ میں کاغذات میں تو ایمرجنسی راستے موجود تھے مگر عملاً وہ ناکافی تھے۔
حکومت کے اعلانات
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہفتے کو واقعہ پیش آیا اور پیر کو انہوں نے اجلاس بلاکر تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی جب کہ انہوں نے اعلان کیا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے کا اعلان کیا جاچکا ہے اور رقم جاری بھی کردی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کمشنر کراچی شناخت مکمل ہونے کے بعد رقم لواحقین کے حوالے کریں گے اور حکومت سندھ تاجروں کے نقصانات کا ازالہ کرے گی۔ ابتدائی مرحلے میں ہر دکان مالک کو پانچ لاکھ روپے دیے جائیں گے جو کراچی چیمبر کے ذریعے ادا ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ دو سال تک متاثرہ تاجروں کو متبادل دکانیں فراہم کی جائیں گی اور سندھ حکومت متاثرین کو سیکیورٹی فراہم کرے گی جب کہ تاجروں کے لیے ایک کروڑ روپے تک کا قرضہ دیا جائے گا جس کا سود حکومت سندھ ادا کرے گی۔
گل پلازہ کا مستقبل
مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ گل پلازہ کو گرانا پڑے گا تاہم کوشش کی جائے گی کہ دو سال کے اندر اسی جگہ نئی عمارت تعمیر کرکے دکانیں تاجروں کے حوالے کی جائیں اور پلازہ کو اس کی اصل منظور شدہ شکل میں بحال کیا جائے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سول ڈیفنس ہوم ڈیپارٹمنٹ کے تحت کام کرتا ہے اور حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام متعلقہ اداروں کو مربوط کیا جائے۔ انہوں نے وفاقی وزیر تجارت سے بات کرکے انشورنس نظام کے لیے قانون سازی کی تجویز بھی دی ہے۔
مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ حکومت تنقید سے نہیں گھبراتی، غلطی کی نشاندہی پر خوشی ہوگی مگر چھپے ہوئے ایجنڈے اور کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے جیسے بیانات کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

















