سال 2025 میں بحری شعبے نے 100 ارب روپے منافع کمالیا۔
بحری شعبے نے ایک سالہ اصلاحاتی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی جس کے مطابق وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری نے 2025 کو انقلابی سال قرار دے دیا۔
جنید انوار چوہدری نے کہا کہ بحری قوانین اور انفراسٹرکچر میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، جو اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے مطابق ہیں، اصلاحات کے بعد بحری شعبے نے 100 ارب روپے منافع کمایا۔
ان کا کہنا تھا کہ سی ٹو اسٹیل منصوبہ متعارف کروایا جو معیشت کو تقویت دے گا، جبکہ قومی فشریز و ایکواکلچر پالیسی پر مشاورت مکمل کرلی گئی ہے، کراچی پورٹ نے 54 ملین ٹن کارگو ہینڈل کر کے ریکارڈ قائم کردیا۔
جنید انوار چوھدری نے کہا کہ کراچی پورٹس کی 150 ایکڑ سرکاری زمین واگزار کرائی، جس کی کی مالیت 110 ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر بحری امور کا پاکستان میرین اکیڈمی کا دورہ، مسائل کے حل کی یقین دہانی
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سپارکو کے تعاون سے نئی بندرگاہوں کے ممکنہ مقامات کی نشاندہی کا آغاز کیا گیا، بحری شعبے کی ترقی کے لیے پاکستان میری ٹائم سنچری فریم ورک پیش کیا گیا، بندرگاہوں کی مانیٹرنگ کے لیے وزارت بحری امور میں اے آئی سیکریٹریٹ قائم کیا گیا۔
جنید انوار چوہدری نے کہا کہ کراچی اور پورٹ قاسم میں پہلی بار بنکرنگ سہولتیں قائم کی، ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ فیری سروس کا آغازکیا گیا، جس سے ساحلی رابطے بہتر ہوں گے۔
جنید انوار چوہدری نے یہ بھی کہا کہ وزارتِ بحری امور میں مکمل ڈیجیٹلائزیشن، پیپر لیس نظام نافذ کر کے بحری تعلیم اور سماجی ترقی کے لیے اصلاحات کا آغاز کیا گیا ہے، پاکستان میرین اکیڈمی کو ڈگری دینے کے اقدامات جاری کر دیے گئے ہیں اور ساحلی بچوں کے تعلیمی وظائف کے لیے اینڈومنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے، جبکہ ٹیکس مراعات اور نجی شراکت داری سے کاروبار آسان ہو گیا۔




















