Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سعودی عرب میں پاکستانی بھکاریوں کا بڑھتا رجحان، قومی اسمبلی کمیٹی میں تشویش

بعض معاونین سعودی عرب جا کر لاپتہ ہو جاتے تھے اور حجاج کی معاونت نہیں کرتے تھے

سعودی عرب میں پاکستانی بھکاریوں کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں تشویش کا اظہار کیا گیا۔

رکن کمیٹی سیمی جمالی نے کہا کہ بھکاریوں کی وجہ سے پاکستان کی عالمی سطح پر بدنامی ہو رہی ہے اور بھیک مانگنا اب ایک منظم انڈسٹری بن چکا ہے، جہاں کچھ افراد اتنا کما لیتے ہیں کہ دوسروں کو بھی اس عمل کی ترغیب ملتی ہے۔

اجلاس میں شگفتہ جمانی نے بتایا کہ حج کے مقابلے میں عمرہ کے دوران بھیک مانگنے کی شکایات زیادہ سامنے آتی ہیں۔ قائم مقام سیکرٹری نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ حج ٹریننگ کے دوران بھیک مانگنے سے متعلق خصوصی لیکچرز دیے جاتے ہیں، تاہم عمرہ کے معاملے پر بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، کیونکہ اس وقت وزارت کے پاس عمرہ سے متعلق براہ راست انتظامات نہیں ہیں۔

بھکاریوں کی ڈی پورٹیشن سے متعلق سوال پر قائم مقام سیکرٹری نے کہا کہ اس بارے میں درست اعداد و شمار وزارت داخلہ ہی فراہم کر سکتی ہے۔ معاونینِ حج کے حوالے سے بتایا گیا کہ آئندہ سال حجاج کی رائے کی بنیاد پر معاونین سے متعلق نئی پالیسی تشکیل دی جائے گی۔

جوائنٹ سیکرٹری حج نے بتایا کہ ماضی میں صوبائی حکومتیں قرعہ اندازی کے ذریعے معاونین کا انتخاب کرتی تھیں، تاہم سجاد یلردم نے انکشاف کیا کہ بعض معاونین سعودی عرب جا کر لاپتہ ہو جاتے تھے اور حجاج کی معاونت نہیں کرتے تھے۔

اس پر آسیہ ناز تنولی نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سال بھی بعض افراد خدمت کے بجائے غفلت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔

شگفتہ جمانی نے این ٹی ایس کے امتحانی نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پاس ہونے والے امیدواروں کے پرچے فراہم کیے جائیں تاکہ دوبارہ جانچ کی جا سکے، کیونکہ ممکن ہے سسٹم بعض خامیوں کو نہ پکڑ سکے۔ تاہم قائم مقام سیکرٹری نے واضح کیا کہ گزشتہ سال سعودی عرب میں کوئی بھی معاون لاپتہ نہیں ہوا۔

قائم مقام سیکرٹری نے مزید بتایا کہ معاونین کی ڈیوٹیاں سعودی عرب روانگی سے قبل ہی مختص کر دی جائیں گی اور جس معاون کو جس ذمہ داری پر تعینات کیا جائے گا، اس حوالے سے اسے اضافی اور خصوصی ٹریننگ بھی دی جا رہی ہے تاکہ حجاج کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔