Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پیٹرولیم لیوی کی ریکوری میں سنگین نقائص کا انکشاف

سنرجی کمپنی اور حیسکول نے مجموعی طور پر 14 ارب 63 کروڑ روپے کے واجبات ادا نہیں کیے۔

اسلام آباد: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں پیٹرولیم لیوی کی ریکوری میں سنگین نقائص کا انکشاف ہوا ہے۔

سید نوید قمر کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پیٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کی آڈٹ رپورٹس برائے سال 24-2023 کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں پیٹرولیم لیوی اور جرمانوں کی مد میں اربوں روپے کے واجبات کی عدم وصولی پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔

آڈٹ حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ سنرجی کمپنی اور حیسکول کی جانب سے پیٹرولیم لیوی اور جرمانوں کی مد میں مجموعی طور پر 14 ارب 63 کروڑ روپے کے واجبات ادا نہیں کیے گئے جب کہ اب تک صرف 19 کروڑ روپے ہی وصول ہوسکے ہیں۔

اس موقع پر چیئرمین پی اے سی سید نوید قمر نے سوال اٹھایا کہ یہ معاملہ انتہائی پرانا ہے، اس کے باوجود ریکوری کیوں نہیں ہوسکی۔

سیکرٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ حیسکول کی جانب سے رقم ادا کی گئی تھی تاہم وہ غلط اکاؤنٹ میں جمع کروائی گئی جس پر آڈیٹر جنرل نے وضاحت کی کہ متعلقہ اکاؤنٹ اب بند ہوچکا ہے اور ریکارڈ میں مزید کسی قسم کی درستگی ممکن نہیں۔ اس پر پی اے سی نے حیسکول سے متعلق آڈٹ اعتراض نمٹا دیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ سنرجی کمپنی 48 اقساط میں چار سال کے دوران 47 ارب روپے ادا کرے گی جب کہ 21 ارب روپے کی لیٹ پیمنٹ سرچارج کی ادائیگی بھی کمپنی کی ذمہ داری ہے۔

سیکرٹری پیٹرولیم کے مطابق لیٹ پیمنٹ سرچارج کے حوالے سے بات چیت جاری ہے اور سنرجی کمپنی نے اقساط کی ادائیگی کا آغاز کردیا ہے۔ نوید قمر نے کہا کہ یہ ڈیل ایس آئی ایف سی کی مداخلت سے طے پائی ہے۔

اجلاس کے دوران پیٹرولیم مصنوعات پر عوام سے وصول کی جانے والی لیوی کی کمپنیوں سے وصولی کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔

ڈی جی آئل نے انکشاف کیا کہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں سالانہ تقریباً 1400 ارب روپے اکٹھے ہوتے ہیں تاہم کمپنیاں مکمل رقم قومی خزانے میں جمع نہیں کراتیں اور وصولی کا کوئی مؤثر طریقہ کار موجود نہیں۔

نوید قمر نے ریمارکس دیے کہ اس صورتحال کا مطلب یہ ہے کہ جو کمپنی لیوی ادا کرے اس کا بھی فائدہ اور جو نہ دے اس کا بھی فائدہ۔

شازیہ مری نے کہا کہ عوام سے سختی سے پیٹرولیم لیوی وصول کی جاتی ہے مگر کمپنیوں کے لیے کوئی واضح طریقہ کار موجود نہیں، ایسے میں عوام کو بھی لیوی کی مد میں ریلیف ملنا چاہیے۔

پی اے سی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے پیٹرولیم کمپنیوں سے لیوی کی وصولی کے قانون اور طریقہ کار کو سخت اور مؤثر بنانے کی ہدایت جاری کردی۔

متعلقہ خبریں