وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کو برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا ہے اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 4B اور 4C کو آئینی قرار دیا ہے، جس کے بعد ایف بی آر نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا۔
عدالت نے شق 4B کے خلاف ٹیکس دہندگان کی اپیلیں مسترد کر دیں، جبکہ شق 4C کے تحت سپر ٹیکس سال 2022 پر بھی نافذ العمل رہے گا۔
ایف بی آر کے مطابق سپر ٹیکس سے قومی خزانے کو 300 ارب روپے سے زائد آمدن متوقع ہے، اور ٹیکس ایئر 2022 میں 15 شعبوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس عائد ہوگا۔
یہ ٹیکس صرف ان شعبوں پر لاگو ہوگا جہاں آمدن 30 کروڑ روپے سے زائد ہو، اور آئل ایکسپلوریشن و پیٹرولیم کمپنیوں کے لیے نئے نوٹس جاری کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
پیٹرولیم کمپنیوں پر سپر ٹیکس معاہدوں کی مقررہ حد کے اندر لاگو ہوگا، جبکہ بینکنگ کمپنیوں کے لیے یہ ٹیکس ٹیکس ایئر 2023 سے نافذ ہوگا۔
ایف بی آر کی جانب سے اسما حمید نے کیس کی مؤثر پیروی کی، جس کی وجہ سے فیصلہ باقاعدہ اور مضبوط قانونی بنیادوں پر سامنے آیا۔



















