Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سانحہ گل پلازہ، 34 سال پرانی غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی، مگر حکومت بے حس رہی

فاروق ستار میئر کراچی تھے جب پہلی بار یہ غیر قانونی تعمیرات ہوئیں

گل پلازہ کی منیجنگ کمیٹی نے 1992 میں شاپنگ سینٹر میں ہونے والی غیر قانونی تعمیرات کی طرف متعلقہ حکام کی توجہ مبذول کرائی تھی، لیکن 34 سال بعد بھی کسی نے بروقت کارروائی نہ کی۔

بول نیوز نے پلازہ کمیٹی کے دستاویزات حاصل کر کے یہ انکشاف کیا ہے کہ اس وقت کمیٹی نے گراؤنڈ فلور کی پارکنگ کی جگہ پر غیر قانونی دکانوں کی تعمیر اور بلڈنگ کی راہداری و داخلی راستوں پر اضافی تعمیرات کی نشاندہی کی تھی۔

کمیٹی کے مطابق واش رومز کی جگہ بھی اضافی تعمیرات کی جا رہی تھیں اور اس سلسلے میں رشوت وصول کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے۔

1992 میں منیجنگ کمیٹی نے کے ایم سی کے محکمہ لینڈ اور کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو اس معاملے سے آگاہ کیا، لیکن حکام نے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔

کے ایم سی حکام کا کہنا ہے کہ اگر 34 سال پہلے غیر قانونی تعمیرات پر نوٹس لیا جاتا تو یہ المیہ ٹالا جا سکتا تھا۔

اس دوران کراچی کے موجودہ قوانین اور نگرانی کے باوجود دکانیں اور اضافی تعمیرات جاری رہیں، جس نے بالآخر سانحہ گل پلازہ کا راستہ ہموار کیا۔

یہ انکشاف خاص طور پر اس لیے سنسنی خیز ہے کہ فاروق ستار میئر کراچی تھے جب پہلی بار یہ غیر قانونی تعمیرات ہوئیں، اور اس کے باوجود انتظامیہ کی غفلت نے انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا۔

متعلقہ خبریں