محسن نقوی نے اسلام آباد میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے جائیداد کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے، جس کے مطابق اگر بیرون ملک مقیم پاکستانی غیر قانونی طور پر اپنی کسی جائیداد پر قبضہ کی شکایت کرتے ہیں، تو ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو سات دنوں کے اندر فیصلہ کرنا لازمی ہوگا۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جائیداد کا تحفظ کیا جائے گا، اور کوئی بھی قانوناً ان کی جائیداد پر قبضہ نہیں کر سکے گا، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (ICT) میں اووسیزپاکستانیوں کی سرمایہ کاری ہمیشہ سے ہی خوش آئند اور قابل قدر رہی ہے۔
بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے زر مبادلہ کی ترسیلات اور سرمایہ کاری کے ذریعے ملک کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں تاہم اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ دیار غیر میں رہنے والے پاکستانی اپنی جائیدادوں پرغیر قانونی قبضے کا سامنا کر رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں طویل مقدمات اور انتظامی تاخیر بھی ہو چکی ہے۔ اس تناظر میں، محسن نقوی کا یہ فیصلہ ایک بڑا سنگ میل ہے، جو آئینی تحفظات، قانونی اختیارات اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا اعتماد بحال کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
محسن نقوی نے اعلان کیا کہ اگر کوئی اوورسیز پاکستانی اسلام آباد میں غیر قانونی قبضے کی شکایت کرتا ہے، تو ایسی صورت میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد سات دنوں کے اندر فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا۔
یہ فیصلہ انصاف میں تاخیر کے دیرینہ مسئلے کو براہ راست حل کرنے مدد گار ثابت ہوگا، جس نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو برسوں سے جاری عدالتی لڑائیوں کے خوف کی وجہ سے رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ فوری فیصلہ کرنا نہ صرف فوری ریلیف کو یقینی بناتا ہے بلکہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 10A کے مطابق بھی ہے، جو منصفانہ اور فوری انصاف کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ
آئین پاکستان جائیداد کے حقوق کی مضبوط حفاظت فراہم کرتا ہے۔ آرٹیکل 23 ہر شہری کو ملک کے کسی بھی حصے میں جائیداد حاصل کرنے، رکھنے اور بیچنے کا حق دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 24 افراد کو غیر قانونی طور پر جائیداد سے محروم ہونے سے بچاتا ہے۔
مزید برآں، آرٹیکل 4 یہ ضمانت دیتا ہے کہ تمام شہریوں کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا اور وہ قانون کے تحفظ سے بہرہ مند ہوں گے۔ محسن نقوی کا فیصلہ ان آئینی دفعات کو مزید مضبوط بناتا ہے، تاکہ غیر ملکی پاکستانیوں کو غیر قانونی قبضہ سے محفوظ رکھا جا سکے۔
اس فیصلے کے ذریعے محسن نقوی نے ایک نیا معیار قائم کیا ہے، جس سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا اعتماد بحال ہو گا۔ طویل مقدمات کی وجہ سے مالی نقصان، ذہنی اذیت، اور سرمایہ کاری سے دوری رہی ہے۔ اب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو یہ یقین دلایا جا رہا ہے کہ ان کی جائیداد کے حقوق بغیر کسی مہنگے اور طویل قانونی جنگ کے محفوظ رہیں گے۔ اس سے اسلام آباد میں جائیداد میں سرمایہ کاری کے لیے نئے دروازے کھلیں گے۔
مزید برآں، محسن نقوی نے یہ بھی کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ICT میں سرمایہ کاری ہمیشہ خوش آئند ہے اور اسے قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ جب انہیں تحفظ فراہم کیا جائے گا، تو وہ اپنی محنت سے کمائے گئے پیسے اور زر مبادلہ کو قانونی بینکنگ چینلز کے ذریعے پاکستان بھیجنے میں زیادہ دلچسپی لیں گے، جس سے ملکی معیشت میں استحکام آئے گا اور منی لانڈرنگ جیسے غیر قانونی ترسیل پر انحصار کم ہو گا۔
دراصل، یہ پالیسی جائیداد کے تحفظ کو قومی اقتصادی استحکام اور ترقی کے ساتھ جوڑتی ہے۔ اس سے مالیاتی امداد میں اضافہ ہوگا، جو حکومت کو انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے، عوامی خدمات کو بہتر بنانے، اور بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے میں مدد دے گا۔
، محسن نقوی کا یہ فیصلہ ایک تاریخی سنگ میل ہے جو آئینی، قانونی اور اقتصادی فریم ورک کے تحت انتظامی اصلاحات کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ سات دنوں میں غیر قانونی قبضے کے مقدمات کا حل بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ایک بڑی کامیابی ثابت ہوگی اور اسلام آباد کو ایک محفوظ اور سرمایہ کاری کے لیے دوستانہ شہر بنانے کی راہ ہموار کرے گا۔ انشاء اللہ۔

















