کراچی: بوٹ بیسن پولیس نے شہر میں ایک شاطر موٹرسائیکل لفٹر گروہ گرفتار کر لیا، جو چوری شدہ موٹرسائیکلوں کو ناقابل شناخت بنانے کے لیے ان کو خصوصی ہائیڈرالک پریس میں دباکر ”بسکٹ “ میں تبدیل کر کے فروخت کرتا تھا۔
ایس ایس پی ساوتھ مہزور علی کے مطابق دوران تفتیش ملزمان نے حیران کن انکشاف کیا کہ ہر بسکٹ میں تین سے چار موٹرسائیکلیں دبائی جاتی تھیں، مجموعی طور پر 25 بسکٹوں سے 120 سے زائد موٹرسائیکلیں برآمد ہوئی ہیں، جن کی مارکیٹ قیمت لاکھوں روپے بنتی ہے۔
گرفتار ملزمان نے بتایا کہ گروہ کا ایک شخص موٹرسائیکل چوری کرتا، جسے فروخت کے لیے شیر شاہ پہنچایا جاتا۔ شیر شاہ پھر موٹرسائیکلوں کو اسکریپ کی شکل دیتا اور یہ اسکریپ کراچی کی سریا اور اسٹیل فیکٹریز کو فروخت کردیا جاتا تھا۔
ایس ایس پی ساوتھ نے کہا کہ ہائیڈرالک پریس سمیت دیگر آلات بھی ملزمان کے قبضے سے برآمد کیے گئے ہیں اور گرفتار شدگان سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اس نیٹ ورک کے دیگر ممبران کا سراغ لگایا جا سکے۔
تاہم، یہ انکشاف کراچی پولیس کے لیے بھی حیران کن تھا کہ کس طرح چوری شدہ موٹرسائیکلیں اتنے جدید طریقے سے اسکریپ میں تبدیل کی جارہی تھیں۔




















