Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

موہن جو دڑو میں کھدائی کے دوران فصیل دریافت

فصیل غالباً تجارت کو منظم کرنے، آمد و رفت کو کنٹرول کرنے اور شہر کے انتظامی اور منصوبہ بندی کے نظام کیلئے بنائی گئی تھی

کراچی: سندھ کے قدیم مقام موہن جو دڑو پر کھدائی کے دوران مرکزی شہر کے گرد کچی اینٹوں سے بنی حفاظتی دیوار (فصیل) دریافت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ موہن جو دڑو پر پاک امریکہ مشترکہ آثار قدیمہ مشن کے تحت کھدائی کا کام جاری ہے، جبکہ امریکی پروفیسر جوناتھن مرک کینویئر اور علی لاشاری کی نگرانی میں ٹیم کھدائی کا کام کررہی ہے۔

1950 اور 51 میں برطانوی ماہر آثار قدیمہ سر مارٹر وہیلر نے اپنی تحقیق میں اسے کچی اینٹوں کی بنیاد قرار دیا تھا، تاہم نئی کھدائی اور زمینی تہوں کے شواہد سے ماہرین نے اسے شہر کی فصیل قرار دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ فصیل غالباً تجارت کو منظم کرنے، آمد و رفت کو کنٹرول کرنے اور شہر کے انتظامی اور منصوبہ بندی کے نظام کیلئے بنائی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: موہن جو دڑو کے بعد ایک اور شہر کاروہر جو دڑو دریافت

صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت و نوادرات سید ذوالفقار علی شاہ نے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو اس اہم دریافت پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ دریافت سندھ کے تاریخی ورثے کی عالمی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دریافت سے تحقیقی اور سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، پاک امریکہ مشترکہ آثارِ قدیمہ مشن کی یہ کامیابی بین الاقوامی تعاون کی بہترین مثال ہے۔

صوبائی وزیر ثقافت نے مزید کہا کہ سندھ حکومت آثارِ قدیمہ کے تحفظ، تحقیق اور فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔