Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سندھ حکومت کا سانحہ گل پلازہ پر عدالتی تحقیقات کرانے کا اعلان

سانحہ گل پلازہ کی عدالتی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن

کراچی: سندھ حکومت نے سانحہ گل پلازہ پر عدالتی تحقیقات کرانے کا اعلان کرتے ہوئے ذمہ داران کو معطل کردیا۔

سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے گل پلازہ سانحہ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اس المناک حادثے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ سانحہ کے بعد سندھ کابینہ نے فوری طور پر ایک کمیٹی تشکیل دی تاکہ مکمل تحقیقات کی جاسکیں۔

وزیر اطلاعات کے مطابق آگ کے وقت پلازہ میں تقریباً 2500 افراد موجود تھے۔ کمیٹی نے تحقیقات مکمل کرلی ہیں اور رپورٹ بھی سامنے آگئی ہے۔ وزیراعلیٰ کی زیر صدارت میٹنگ میں اہم فیصلے کیے گئے جن میں کراچی پولیس چیف اور کمشنر کی رپورٹ کی روشنی میں کارروائی شامل ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ ڈائریکٹر اور ایڈیشنل کنٹرولر سول ڈیفنس کو فوری طور پر معطل کردیا گیا ہے۔ کراچی فائربریگیڈ کو آگ بجھانے کے دوران پانی کی فراہمی میں تاخیر ہوئی جس کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات پیش آئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں چیف انجینئر بلک واٹر بورڈ، سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروس اور ہائیڈنٹ انچارج کو بھی معطل کردیا گیا ہے۔

شرجیل میمن نے اعلان کیا کہ سندھ حکومت سانحہ گل پلازہ کی عدالتی تحقیقات کرانے کے لیے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہی ہے۔ ہائیکورٹ کے حاضر سروس جج کے ذریعے جوڈیشل کمیشن کے تحت تحقیقات ہوں گی تاکہ کسی پر بھی انگلی نہ اٹھ سکے۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی رپورٹ کے مطابق آگ بجھانے کا انتظام مناسب نہیں تھا اور اینٹی کرپشن کو عمارت کی لیز میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی ہدایت کردی گئی ہے۔ سابقہ دور کے میئرز اور عمارت کی غیرقانونی لیز دینے والے افراد سے بھی تفتیش کی جائے گی۔

وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ پولیس گل پلازہ کی انتظامیہ کو بھی تفتیش میں شامل کرے گی۔ سانحہ کے دوران آگ کے شواہد میں ایک 8 سالہ بچے سے متعلق معلومات بھی موجود ہیں اور جس کی غفلت ثابت ہوئی اس کا نام ایف آئی اے میں شامل کیا جائے گا۔

شرجیل میمن نے یہ بھی کہا کہ تحقیقات مزید شفاف بنائی جارہی ہیں تاکہ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد قصوروار افراد کے نام سامنے آسکیں اور کوئی سیاسی دباؤ اثر انداز نہ ہو۔