کراچی: وفاقی وزیر صحت اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے بول ویک اینڈ اسپیشل میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرتضیٰ وہاب کی بات کا جواب دینا میرا لیول نہیں اور ان کی میئرشپ پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ملک میں صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری آئی ہے اور عوام کو اس کے مثبت نتائج نظر آرہے ہیں۔ نظام افراد سے بالاتر ہوتا ہے، انسان آتے جاتے رہتے ہیں لیکن نظام کو چلتے رہنا چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب سے متعلق سوال پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مرتضیٰ وہاب کی بات کا جواب دینا ان کا لیول نہیں اور وہ ان کی میئر شپ پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔
پانی کے بحران پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پانی چوری کی سب سے بڑی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ جو پانی ٹینکروں میں آسکتا ہے وہ افغانستان سے نہیں آتا، اگر ٹینکروں میں پانی آسکتا ہے تو لائنوں میں بھی آسکتا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جب وہ میئر تھے اس وقت کراچی میں پانی کا کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا کیونکہ ہر جگہ پانی کی لائنیں ڈالی گئی تھیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر نیت صاف ہو، حرام نہ کھایا جائے اور کام کرنا آتا ہو تو چیزیں بہتر ہوسکتی ہیں۔ کراچی کبھی دنیا کے تیزی سے ترقی کرنے والے 12 شہروں میں شامل تھا۔
سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ پاک سرزمین پارٹی کا اب کوئی تصور نہیں، ایم کیو ایم ہی ان کی جماعت ہے اور یہی ان کی پارٹی رہے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ایس پی اب بحال نہیں ہوسکتی، بہادر آباد میں بیٹھ کر بھی پریس کانفرنس کی تھی اور اس سے قبل بھی ایسی پریس کانفرنس کی جاچکی ہے جس میں خالد مقبول موجود نہیں تھے۔
بانی ایم کیو ایم سے متعلق بات کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ عمران فاروق کا قتل 2010 میں ہوا جب کہ 2020 میں عدالت نے بانی ایم کیو ایم کو ماسٹر مائنڈ قرار دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ کوئی الزام نہیں لگارہے بلکہ عدالت کے احکامات بیان کررہے ہیں، عدالت بانی ایم کیو ایم کو مفرور قرار دے چکی ہے۔
وفاقی وزیر کہتے ہیں کہ اگر بانی ایم کیو ایم کی مقبولیت ہوتی تو انٹرنیٹ پر لاکھوں لوگ انہیں سنتے۔ بانی ایم کیو ایم سوشل میڈیا پر نوجوان نسل کو گمراہ کر رہے ہیں، عمران فاروق قتل کیس کا ماسٹر مائنڈ خود بتائے گا کہ اصل قاتل کون ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب جھوٹ بولا جائے تو سچ بولنے کے لیے سامنے آنا پڑتا ہے۔ نوجوان ایم کیو ایم کے ساتھ ہیں جب کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں بہت سے مواقع ضائع کیے۔
آئینی اور سیاسی اصلاحات پر بات کرتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ مسائل کا حل صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے۔ 28 ویں آئینی ترمیم کسی جماعت کی خواہش نہیں بلکہ پاکستان کی ضرورت ہے اور اختیارات وزیراعلیٰ ہاؤس سے ضلعی سطح تک منتقل کرنے ہوں گے۔
مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ وہ آئینی ترمیم کے بدلے میں کوئی ٹھیکہ نہیں مانگ رہے۔ گورنر سندھ کی تبدیلی سے متعلق سوال پر انہوں نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا تاہم کہا کہ پیپلز پارٹی کے بغیر آئینی ترمیم ممکن نہیں تھی۔
خارجہ اور قومی امور پر اظہار خیال کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کو سفارتی محاذ پر بڑی کامیابیاں ملی ہیں۔ اگر امریکا اور اسرائیل ایران پر حملہ کرتے ہیں تو یہ پاکستان کے لیے خطرے کی بات ہوگی
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان کو ایک قوم بننے کی ضرورت ہے اور نئے صوبوں کی تشکیل ناگزیر ہے۔ پاکستان میں بعض اوقات دس دس سال تک الیکشن نہیں ہوتے جو جمہوری عمل کے لیے نقصان دہ ہے۔



















