Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سندھ حکومت کی سرنڈر پالیسی کے مثبت نتائج؛ 38 خطرناک ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیے

ایک دن قبل سکھر میں بھی 12 ڈاکوؤں نے خود کو قانون کے حوالے کیا تھا

سندھ حکومت کی مؤثر اور نتیجہ خیز سرنڈر پالیسی کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں، جس کے تحت 38 خطرناک ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

اس حوالے سے سندھ کے وزیرِ داخلہ ضیاءالحسن لنجار نے بتایا ہے کہ سرنڈر پالیسی کے تحت کشمور ضلع میں 26 خطرناک اور مطلوب ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال کر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے خود کو قانون کے حوالے کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے ایک دن قبل سکھر میں بھی 12 ڈاکوؤں نے خود کو قانون کے حوالے کیا تھا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کچے کے علاقوں میں جاری میگا آپریشن کے باعث جرائم پیشہ عناصر شدید دباؤ اور خوف کا شکار ہیں جبکہ ریاست کی رٹ مزید مضبوط ہو رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پولیس، سندھ رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مشترکہ آپریشن مکمل امن و امان کی بحالی اور جرائم کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گا، وقت گزرنے کے ساتھ یہ بڑا آپریشن مزید تیز، مؤثر اور فیصلہ کن ہوتا جائے گا۔

جرائم پیشہ عناصر کو واضح پیغام دیتے ہوئے ضیاءالحسن لنجار نے کہا کہ میں ڈاکوؤں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ بڑے آپریشن کی زد میں آنے کے بجائے ہتھیار ڈال کر سرنڈر کر لیں۔ سندھ حکومت نے امن کا راستہ دکھادیا ہے، جو قانون کی پاسداری کریں گے انہیں خوش آمدید کہا جائے گا۔ بعد میں پچھتانے سے بہتر ہے کہ سرنڈر پالیسی سے فائدہ اٹھا لیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سہ فریقی سرحدی علاقے اور کچے کے علاقے میگا آپریشن کے خصوصی اہداف ہیں اور ڈاکوؤں، ان کے ٹھکانوں اور سہولت کاروں کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ سندھ حکومت پختہ عزم اور واضح مقاصد کے ساتھ اس وقت تک کارروائیاں جاری رکھے گی جب تک آخری ڈاکو کا خاتمہ نہیں ہوجاتا۔

سندھ کے وزیرِ داخلہ نے ڈی آئی جی، ایس ایس پی کشمور، ایس ایس پی سکھر اور ان کی پوری ٹیم کی شاندار، پیشہ ورانہ اور مثالی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں مبارکباد دی اور پولیس کے شانہ بشانہ کام کرنے والے سندھ رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو بھی قابلِ تعریف قرار دیا۔

انہوں نے بتایا کہ کشمور ضلع میں پولیس، سندھ رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مشترکہ آپریشن کے دوران جن ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈالے، ان میں عبدالرحیم عرف اڈرو شیر، تاج محمد ولد قیصر شیر، عبدالمجید ولد علی حسن شیر، اللہ دین ولد باگو شیر، جمال دین ولد باجھی شیر، محمد نواز عرف شادو ولد لالان شیر، آصف بھیو ولد شاہ نواز بھیو، غوث بخش ولد نور حسن بھیو، یعقوب ولد محمد بخش، وسیم ولد ارز محمد بھیو، یار محمد ولد علی محمد بھیو، ارشاد ولد علی محمد بھیو، عاشق عرف معشوق ولد شاہ نواز بھیو، امتیاز علی ولد دوست علی بھیو، محمد علی ولد شاہ میر بھیو، ظفر علی ولد اللہ دینو بھیو، منظور ولد پیارو بھیو، عبدالسلام ولد صوبیدار بھیو، محمد قاسم ولد شفیع محمد شیر، ثناءاللہ ولد شفیع محمد شیر، عبدالعزیز ولد بدیہل شیر، صادق ولد رحمان شیر، اللہ بخش ولد غلام نبی شیر، عبدالرحیم عرف اڈرو ولد تاج محمد شیر، ذوالفقار عرف بھیو ولد بشیر احمد سبزوئی اور واجد ولد فقیر محمد سبزوئی شامل ہیں۔

ضیاءالحسن لنجار کے مطابق یہ تمام ملزمان اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری، قتل، اقدامِ قتل، پولیس مقابلوں اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث رہے ہیں۔

آخر میں سندھ کے وزیرِ داخلہ نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت عوام کی جان و مال کے تحفظ، جرائم کے مکمل خاتمے اور صوبے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور اس مقصد کے حصول تک کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں