Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

عوام کی اکثریت کو کرپشن کا سامنا نہیں کرنا پڑا، سروے جاری

سب سے زیادہ شفافیت پولیس، سرکاری اسپتال، تعلیمی ادارے اور NADRA میں دیکھی گئی

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) نے کرپشن کے تاثر کے حوالے سے کرائے جانے والے سروے کے نتائج جاری کردیے ہیں۔

Index of Transparency and Accountability in Pakistan (iTAP)   کے نام سے کرائے جانے والے اس سروے کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر احسن اقبال کی زیرصدارت ہونے والی ایک تقریب میں جاری کیا گیا ہے۔

یہ سروے معروف سروے فرم Ipsos کے تعاون سے مکمل کیا گیا ہے، جس میں ملک بھر سے 6018 افراد کی آراء کو شامل کیا گیا ہے۔ سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کے تاثر اور ذاتی تجربات میں واضح فرق موجود ہے۔

68 فیصد رائے دہندگان کے مطابق سرکاری اداروں میں رشوت ستانی عام ہے، لیکن صرف 27 فیصد نے ذاتی طور پر ایسے تجربات کا سامنا کیا۔

اسی طرح 56 فیصد نے اقربا پروری کا عمومی تاثر دیا، مگر صرف 24 فیصد نے اسے ذاتی طور پر محسوس کیا۔ 59 فیصد نے سرکاری اہلکاروں کے غیر قانونی دولت سازی کے رجحان کا تاثر دیا، تاہم صرف 5 فیصد نے اسے خود دیکھا۔

مزید پڑھیں: معاشی ترقی اور امن؛ پاکستان نے بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا، گلوبل اکنامک گیلپ سروے

سروے میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ عوام کی اکثریت نے بدعنوانی کے مشاہدے یا تجربے سے اجتناب کرنے کی تصدیق کی ہے۔

 67 فیصد رائے دہندگان نے کہا کہ انہیں کسی قسم کی بدعنوانی کا سامنا نہیں ہوا، 73 فیصد نے بتایا کہ انہیں کبھی رشوت دینے کی ضرورت پیش نہیں آئی، اور 76 فیصد کا کہنا تھا کہ انہیں اقربا پروری کا واسطہ نہیں پڑا۔

شفافیت کے اشاریے کے لحاظ سے اسلام آباد سرفہرست رہا، جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بھی نمایاں کارکردگی دیکھی گئی۔ عوامی خدمات کے معیار میں NADRA سب سے بہتر ادارہ قرار پایا، جبکہ NAB سب سے مؤثر اینٹی کرپشن ادارہ سمجھا گیا۔

سروے سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ عوام میں احتسابی نظام اور اینٹی کرپشن اداروں سے متعلق آگاہی میں بہتری آئی ہے، اگرچہ RTI قوانین اور وسل بلور قوانین سے آگاہی محدود رہی۔

عوام کے تجربات کے مطابق سرکاری اداروں میں سب سے زیادہ شفافیت پولیس، سرکاری اسپتال، تعلیمی ادارے اور NADRA میں دیکھی گئی۔

نوجوان نسل کے تجربات بزرگوں کے مقابلے میں زیادہ مثبت رہے، جبکہ خواتین اور شہری آبادی میں اعتماد نسبتا بہتر پایا گیا۔ شہری علاقوں میں بدعنوانی کے تاثر اور نظام پر اعتماد دیہی علاقوں کے مقابلے میں بہتر دکھائی دیا۔

iTAP سروے کے نتائج کی بنیاد پر یہ واضح ہوا کہ اگر شفافیت اور احتساب کی اصلاحات کو مؤثر انداز میں آگاہ کیا جائے اور ان پر مستقل نگرانی کی جائے تو اداروں میں عوامی اعتماد اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

سروے کا مقصد حکومت اور اداروں میں عوام کے اعتماد کی موضوعی جانچ فراہم کرنا ہے۔ فیلڈ سروے 25 دسمبر تا 26 جنوری کے دوران مکمل کیا گیا تاکہ ملکی اور حالیہ عکاسی کرنے والے نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے FPCCI کو شفافیت اور احتساب کے اہم مسئلے کو قومی بحث کے مرکز میں لانے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت اور احتساب اچھی حکمرانی کی بنیاد ہیں اور شہریوں کی تسلی، کاروباری ماحول، سرمایہ کار اعتماد اور پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہیں۔

وزیر نے عوامی تاثر اور حقیقی تجربے کے درمیان فرق کی نشاندہی کی اور کہا کہ منفی تاثرات اگر بروقت دور نہ کیے گئے تو یہ قومی ترقی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاثر اور حقیقت کے فرق کو کم کرنا مشترکہ ترجیح ہونی چاہیے۔

متعلقہ خبریں