اسلام آباد: پاکستان اور قازقستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری سے متعلق مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا۔
وزیرِاعظم شہباز شریف کی دعوت پر قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا جو قازقستان کے صدر کا 23 برس بعد پاکستان کا سرکاری دورہ ہے اور اسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جارہا ہے۔
دورے کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور قازقستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے کا فیصلہ کیا جس کے تحت دو طرفہ تعلقات کو اعلیٰ سطح پر مضبوط بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے۔
اس شراکت داری میں سیاسی مکالمہ، سلامتی اور دفاع کے شعبے شامل ہوں گے جب کہ تجارت، معیشت، سرمایہ کاری، نقل و حمل اور لاجسٹکس کے شعبے بھی اس کے دائرے میں آئیں گے۔
مزید براں تعلیم، سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ثقافت، میڈیا، کھیل اور سیاحت کے شعبوں پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنایا جاسکے۔
اعلامیے کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی ہم آہنگی اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر تعاون کے امور پر بھی دونوں رہنماؤں نے مفصل بات چیت کی۔
پاکستان اور قازقستان کے درمیان یہ شراکت داری دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے، اقتصادی و تجارتی مواقع بڑھانے اور علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
















