صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہبازشریف نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر خصوصی پیغام جاری کیا ہے۔
صدرمملکت آصف علی زرداری
آزادانہ، غیرجانبدارانہ رائے شماری تک ہم کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے
صدرمملکت آصف علی زرداری نے یوم یکجہتی کشمیرکے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ بھارتی قابض افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بدستورجاری ہیں، بین الاقوامی رپورٹس میں من مانے حراستی اقدامات اجتماعی سزاؤں میں تشویشناک اضافہ سامنے آیا۔
انہوں نے کہا کہ دنیابھر میں بسنے والے پاکستانی آج کے دن یوم یکجہتی کشمیر مناتے ہیں، 36 برس قبل، 1989 میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اس دن کے باقاعدہ انعقادکا آغازشکیا، تقریباً 8 دہائیوں سے کشمیری عوام غیرقانونی بھارتی قبضے کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔
صدرمملکت نے کہا کہ کشمیری بے شمار قربانیاں دے چکے ہیں، جموں و کشمیر میں صورتحال عالمی ضمیر کے لیے شدید تشویش کاباعث بنی ہوئی ہے، بھارت نے غیرقانونی قبضے کو مضبوط کرنے کی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میڈیا پر قدغن، کشمیری قیادت کی گرفتاریوں سے کشمیریوں کوکمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، کشمیریوں کے گھروں کی مسماری، ڈیجیٹل آزادیوں پر پابندیاں حقیقت کو چھپانے کی واضح کوششیں ہیں، مساجد اور مسجد انتظامیہ کی حالیہ پروفائلنگ بھارتی حکام کی جانب سے دانستہ دباؤ کی کارروائیاں ہیں۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ کارروائیوں کا مقصد مسلم اکثریتی آبادی کے مذہبی حقوق میں رکاوٹ ڈالناہے، یہ اقدامات انتہاپسندہندوتوا سوچ کے تحت مذہبی امتیاز کے وسیع ترسلسلے کاحصہ ہیں،
انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو بغیر خوف، دباؤ یاامتیاز کے اپنے مذہب پرعمل کرنے کا ناقابل تنسیخ حق حاصل ہے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کیلئے کشمیرکے بنیادی تنازع حل ہونا ضروری ہے عالمی برادری بھارت کوانسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنے پرآمادہ کرے۔
صدر پاکستان نے مزید کہا کہ بھارت بین الاقوامی انسانی حقوق کے مبصرین کوبلارکاوٹ رسائی دے، بھارت کشمیری عوام کو اُن کا وعدہ شدہ حق خود ارادیت فراہم کرے، آزادانہ، غیرجانبدارانہ رائے شماری تک ہم کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: یوم یکجہتی کشمیر؛ آئی ایس پی آر کا نیا نغمہ ’’کشمیر ہے پاکستان‘‘ جاری
وزیراعظم شہباز شریف
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعددقراردادوں کے مطابق کشمیرایک متنازع خطہ ہے
وزیراعظم شہبازشریف نے یوم یکجہتی کشمیرکے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود دیرینہ حل طلب تنازعات میں سے ایک ہے، ہم کشمیریوں کے حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہدمیں ان کی حمایت جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعددقراردادوں کے مطابق کشمیرایک متنازع خطہ ہے، جموں وکشمیر کے حتمی مستقبل کا فیصلہ آزاد، غیرجانبداررائے شماری سے ہوناہے، 8 دہائیوں سے بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث کشمیریوں کوبنیادی حق سے محروم رکھاگیاہے، بھارتی فوج کی موجودگی میں جبراورسنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کاگڑھ بناہواہے سیاسی سرگرمیاں، ذرائع ابلاغ پرپابندیاں، کشمیر میں بھارت کے معمول کے ہتھکنڈے بن چکے ہیں۔
شہبازشریف نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نےغیرقانونی، یکطرفہ انتظامی وقانونی اقدامات کاسلسلہ شروع کیا، ایسے اقدامات کامقصدمقبوضہ جموں وکشمیر پر اپنے جبری تسلط کو مضبوط بناناتھا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارتی قابض افواج کے اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹرکی خلاف ورزی ہیں، آبادی کے تناسب میں مصنوعی تبدیلی اورکشمیرکی انتظامی حیثیت کوبدلنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارت کے غیرقانونی اقدامات ہندوتوانظریے سے متاثرہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ کشمیر میں مساجد، انتظامی کمیٹیوں کی مسلسل نگرانی مذہبی آزادی کے حق کی سنگین خلاف ورزی ہے، بہادر اور ثابت قدم کشمیری عوام نے اپنی جائزامنگوں سے دستبردارہونے سے ہمیشہ انکارکیاہے، پاکستان ان کی بے مثال جرات، استقامت اورقربانیوں کوسلام پیش کرتاہے۔
شہبازشریف نے اپنے پیغام میں مزید یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی،بین الاقوامی فورمزپرکشمیریوں کے حق خودارادیت کی وکالت کی ہے، پاکستان کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہدمیں اخلاقی،سفارتی اورسیاسی حمایت جاری رکھے گا۔

















