Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اسلام آباد: امام بارگاہ میں خودکش دھماکا، 31 نمازی شہید، 169 زخمی

 پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور کا تعلق فتنہ الخوارج سے بتایا جارہا ہے

اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں خودکش دھماکا ہوا ہے۔

پولیس کے مطابق خودکش دھماکا نمازِ جمعہ کے دوران ہوا جس کے نتیجے میں 31 معصوم نمازی شہید جبکہ 169 زخمی ہوگئے۔

  ضلعی انتظامیہ کے مطابق جائے وقوعہ سے تمام زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ آئی جی اسلام کے کزن حسن بھی دھماکے میں شہید ہوئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور کا تعلق فتنہ الخوارج سے بتایا جا رہا ہے۔ خودکش جہنمی مسجد کے گیٹ پر داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم سیکیورٹی پر مامور افراد نے اسے روک لیا، جس پر حملہ آور نے موقع پر ہی خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

ذرائع نے بتایا کہ واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور فرانزک ٹیمیں بھی موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کر رہی ہیں۔

پولیس نے واضح کیا ہے کہ مسجد اور نمازیوں پر حملے کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

دھماکے کا نوٹس

وزیر اعظم نے اسلام آباد میں دھماکے کا نوٹس لے لیا اورانتظامیہ سے حادثے کی رپورٹ طلب کر لی۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔

صدر مملکت کا اظہار افسوس

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی دارالحکومت میں دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور دھماکے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور صبرِ جمیل کی دعا کی۔

صدر آصف زرداری نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کرتے ہوئے زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دے دی۔

انہوں نے کہا کہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف جرم ہے، قوم مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

وزیراعظم کا واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ترلائی، اسلام آباد میں امام بارگاہ میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے کے ذمہ داران کو تعین کرکے انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔

وزیرِ اعظم نے دھماکے میں شہادتوں پر گہرے دکھ و رنج اور اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کی بلندی درجات اور انکے اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا بھی کی۔

اس حوالے سے شہباز شریف نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کی اور واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کے فوری تعین کی ہدایت دی۔

انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے وزیر صحت کو خود نگرانی کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ ملک میں شر پسندی اور بدامنی پھیلانے کی ہر گز کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔

متعلقہ خبریں