اسلام آباد: ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف وزیر اعظم شہباز شریف کی قائدانہ صلاحیتوں کے معترف ہوگئے۔
ازبکستان کے صدر نے کہا کہ وہ اپنے بھائی وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قائدانہ صلاحیتوں کے معترف ہیں اور پاکستان و ازبکستان کے تعلقات اب کثیرالجہتی شکل اختیار کرچکے ہیں۔
پاکستان ازبکستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے ازبک صدر کا کہنا تھا کہ بزنس فورم میں طے پانے والے معاہدوں پر مؤثر عملدرآمد سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
صدر شوکت مرزائیوف نے کہا کہ سال 2026 باہمی تعاون پر مبنی شراکت داری کے فروغ کا سال ثابت ہوگا۔ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعلقات مختلف شعبوں تک پھیل چکے ہیں اور بزنس فورم میں ہونے والے معاہدوں پر عملدرآمد دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
ازبک صدر نے صحت کے شعبے میں بھرپور تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ ازبکستان پاکستان کو آلاتِ جراحی اور ادویات کی تیاری میں تعاون فراہم کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ٹیکسٹائل کے شعبے میں بھی پاکستانی سرمایہ کاروں کو سہولیات دی جائیں گی جب کہ ازبکستان میں کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول دستیاب ہے۔
صدر شوکت مرزائیوف نے چین، کرغزستان اور ازبکستان پر مشتمل این ایل سی کے ذریعے تجارتی سرگرمیوں کو قابلِ ستائش قرار دیا۔
اس سے قبل تقریب سے خطاب میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کا آئی ٹی شعبہ تیزی سے ترقی کررہا ہے اور گزشتہ سال 18 فیصد اضافے کے ساتھ برآمدات 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے جس سے ازبکستان بھی فائدہ اٹھاسکتا ہے۔ پاکستان کے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان ازبکستان میں پلانٹس لگانے کے خواہاں ہیں جس سے دونوں ممالک کو معاشی فائدہ ہوگا۔
وزیرِ اعظم نے بتایا کہ باہمی تجارت کا حجم 2 ارب ڈالر تک لے جانے پر اتفاق ہوچکا ہے جب کہ سائنس و ٹیکنالوجی، توانائی، زراعت اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان باہمی تجارت کے مزید فروغ کی بھرپور صلاحیت موجود ہے اور بزنس فورم اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہورہا ہے۔
















