اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے آئی جی اسلام اباد کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خود کش حملہ آور کو شناخت کرلیا گیا ہے اور 72 گھنٹوں میں ملوث افراد اور ہینڈلرز کی تفصیلات جاری کریں گے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں پیش آنے والا دہشت گردی کا حالیہ واقعہ نہایت افسوسناک اور دلخراش ہے جس میں اب تک 31 افراد شہید ہوچکے ہیں۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں بھی بھارت کے اسپانسرڈ دہشت گرد ملوث ہیں جس کے شواہد پاکستان عالمی برادری کو فراہم کرچکا ہے۔
وزیر مملکت داخلہ کے مطابق واقعہ ایک بج کر 42 منٹ پر رپورٹ ہوا جب کہ ریسکیو ادارے دس سے بارہ منٹ کے اندر موقع پر پہنچنا شروع ہوگئے تھے اور فوری امدادی کارروائیاں کی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ شہداء میں آئی جی اسلام آباد کے کزن بھی شامل ہیں تاہم شہید اور زخمی ہونے والے تمام افراد ہمارے بھائی ہیں اور پوری قوم اس سانحے پر غمزدہ ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ خودکش حملہ آور کی شناخت کرلی گئی ہے اور اس سے متعلق اہم معلومات حاصل ہوچکی ہیں۔
ان کے مطابق حملہ آور افغان شہری نہیں تھا تاہم اس کے افغانستان کے متعدد دورے سامنے آئے ہیں۔ دہشت گردوں نے ایک ہفتہ قبل بلوچستان میں کسی بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی مگر ان کا یہ منصوبہ ناکام ہوگیا اور ان کا سرپرائز الٹا پڑگیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد جاری ہے اور دہشت گردی کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد اب سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنارہے ہیں اور یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ مذہب کے نام پر نماز ادا کرنے والوں کو کیسے نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
وزیر مملکت داخلہ نے بتایا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے واقعے کے بعد امام بارگاہ کا دورہ کیا اور وہاں نماز بھی ادا کی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ امام بارگاہ کو 72 گھنٹوں کے اندر بحال کردیا جائے گا جب کہ اسی مدت میں واقعے میں ملوث افراد اور ان کے ہینڈلرز کی تفصیلات بھی منظرِ عام پر لائی جائیں گی۔
طلال چوہدری کہتے ہیں کہ بی ایل اے کے دہشت گردوں کو ڈالر میں تنخواہیں دی جاتی ہیں اور افغانستان کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ وہ بھارت کی پراکسی نہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ مئی 2025 میں جو بھارت کے ساتھ ہوا وہی انجام اس کی پراکسیز کا بھی ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف تیز رفتار کارروائیاں جاری ہیں اور اب کوئی بھی غیر قانونی فرد پاکستان میں نہیں رہے گا۔
وزیر مملکت داخلہ نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ یہ جنگ ہم جیتنے کے لیے لڑ رہے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف ریاست پوری قوت سے کارروائی جاری رکھے گی۔

















