سیکیورٹی عہدیداروں اور ذرائع نے لاہور میں میڈیا نمائندگان سے غیر رسمی ملاقات کے دوران دہشت گردی، قومی سلامتی اور داخلی استحکام سے متعلق اہم نکات پر تفصیلی گفتگو کی۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ پاکستان میں سرگرم “فتنہ الخوارج” اور “فتنہ الہندوستان” کے خاتمے کے لیے پوری قوم کو یکجا ہونا ہوگا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج، پولیس یا ایف سی کی نہیں بلکہ یہ 24 کروڑ عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ان کے مطابق اس جنگ میں کامیابی کا انحصار نیشنل ایکشن پلان پر مکمل اور مؤثر عمل درآمد سے جڑا ہوا ہے۔
ذرائع نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں ہونے والی اسپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار ہے۔ حالیہ ترلائی امام بارگاہ حملے کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ حملہ آور کو افغانستان میں دہشت گردی کی تربیت دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی اور اندرونی سازشی عناصر کے خلاف سخت اور فیصلہ کن کارروائیاں ناگزیر ہیں، جبکہ قوم کو لسانی، صوبائی یا مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی ہر کوشش ناکام بنانا ہوگی۔
“آپ کی سیاسی یا مذہبی وابستگی کچھ بھی ہو، دہشت گردی کے خلاف سب کو ایک صف میں کھڑا ہونا ہوگا”، ذرائع نے زور دیا۔
بلوچستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا گیا کہ “فتنہ الہندوستان” دراصل بلوچ عوام اور صوبے کی ترقی کا دشمن ہے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق تین سال قبل ایران سے روزانہ 15 سے 20 ملین لیٹر پیٹرول و ڈیزل اسمگل ہوتا تھا، جس کی رقم دہشت گردی میں استعمال ہوتی تھی، تاہم اب اس اسمگلنگ پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔
ذرائع نے گڈ گورننس کو دہشت گردی کے خاتمے کی بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے کہا کہ احساسِ محرومی کے نام پر تشدد کرنے والوں کو بلوچستان کے عوام مسترد کر چکے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں بھی دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کو کلیدی قرار دیا گیا اور حالیہ مشاورتی اجلاسوں کو خوش آئند پیش رفت کہا گیا۔
سیاسی امور پر بات کرتے ہوئے سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، بات چیت سیاسی جماعتوں کا حق ہے، جبکہ قانونی معاملات کا فیصلہ عدالتوں نے آئین کے مطابق کرنا ہے۔ اپوزیشن لیڈر کے حالیہ بیان کو افسوسناک اور حقائق کے منافی قرار دیا گیا۔
بریفنگ کے اختتام پر کہا گیا کہ “کوئی بیانیہ فوج اور عوام کے رشتے کو کمزور نہیں کر سکتا، ہمارا واحد بیانیہ پاکستان ہے”، اور جس طرح “معرکہ حق” میں قوم متحد ہوئی، اسی طرح دہشت گردی کے خلاف بھی یکجہتی سے کامیابی حاصل کی جائے گی۔

















