خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا جبکہ کم عمر لڑکی کو خودکش حملے کے لیے تیار کرنے کی بھی کوشش بے نقاب ہوگئی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت کارروائی سے ممکنہ بڑا سانحہ ٹل گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ سوشل میڈیا اور انکرپٹڈ ایپس کے ذریعے ذہن سازی کی جا رہی تھی، مقامی اور سرحد پار فتنہ الخوارج ہینڈلرز کے درمیان رابطوں کے شواہد سامنے آگئے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق فتنہ الخوارج نوجوان لڑکوں کے بعد اب کم عمر لڑکیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
مقامی عمائدین نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خودکش حملے اسلام اور انسانی اقدار کے سراسر خلاف ہیں۔ اور ایسے عناصر معاشرے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق بروقت کارروائی سے بڑے جانی نقصان اور تباہی سے بچاؤ ممکن ہوا ہے۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔


















