خالد مقبول صدیقی نے کراچی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سندھ اسمبلی میں منظور کی گئی حالیہ قرارداد پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
رہنما متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے کہا کہ سندھ کے شہری علاقوں کے لیے اب فیصلہ کن وقت آ چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک اسمبلی میں پاکستان کے آئین کے خلاف قرارداد منظور کی گئی، جو آئین کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کوئی صوبہ آئین سے متصادم قرارداد منظور کر سکتا ہے؟
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں قرارداد منظور کر کے آئینی حدود کو پامال کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ سو فیصد سندھ کا بجٹ بنا کر دیتے ہیں، ان کے پاس اختیارات نہیں ہیں، جو ناانصافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ مسائل کا حل مکالمے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قرارداد کس خوف کے تحت سندھ اسمبلی سے منظور کی گئی، اس کی وضاحت کی جائے۔
ایم کیو ایم رہنما نے دعویٰ کیا کہ تاریخ اٹھا کر دیکھ لی جائے، ایم کیو ایم کا کوئی مطالبہ آئین سے متصادم نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ دھرتی ماں پاکستان ہے اور صوبے اس کا حصہ ہیں، جبکہ ہمارے ہوتے ہوئے “سندھودیش” کا ہر خواب خاک میں مل جائے گا۔
خالد مقبول صدیقی نے مزید الزام عائد کیا کہ مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت نے سندھ پر قبضہ جما رکھا ہے، جس کے باعث شہری علاقوں کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔


















