Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

افغان طالبان رجیم کے دعوے بےنقاب؛ چینی سرمایہ کار اور مزدور شدت پسندوں کے نشانے پر

چینی سرمایہ کاری کے منصوبے اور کارکن شدت پسند گروہوں کی زد میں آگئے

افغان طالبان رجیم دہشتگرد گروہوں کیخلاف غیر ملکی افراد کو سیکیورٹی فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہوگئی ہے، چینی سرمایہ کار اور مزدور شدت پسندوں کے نشانے پر آگئے ہیں۔

 افغان طالبان رجیم کی ناکامی بے نقاب ہوگئی، سیکیورٹی کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے، چینی سرمایہ کاری کے منصوبے اور کارکن شدت پسند گروہوں کی زد میں آگئے۔

امریکا کی اسٹمسن انسٹی ٹیوٹ کی محقق سارہ گوڈاک کے مطابق افغان طالبان رجیم چینی کارکنان کو مقامی شدت پسندوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے، طالبان رجیم کی نااہلی نے افغانستان-تاجکستان بارڈر پر موجود سونے کی کانوں کو چینی مزدوروں کیلئے مہلک محاذ بنادیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ستمبر 2024 سے 2026 کے آغاز تک، افغانستان-تاجکستان سرحدی علاقے میں کم از کم سات حملے ہوئے، جس میں نو چینی شہری ہلاک اور 10 زخمی ہوئے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ بھاری منافع کے عوض چینی سرمایہ کاری کے منصوبوں کی حفاظت طالبان رجیم نے سنبھالی ہے، مگر چینی کارکن اب بھی شدت پسند گروہوں کے آسان ہدف پر ہیں۔

 ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کو دہشت گردوں کی سرپرستی کے بجائے اپنے داخلی معاملات، سیکیورٹی اور عوامی تحفظ پر توجہ دینی چاہیے، چینی مزدوروں پر بار بار حملے واضح ثبوت ہیں کہ طالبان غیر ملکی کارکنان کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہیں۔

متعلقہ خبریں