Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

خاتون جج کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے والے وکیل کو 6 ماہ قید اور جرمانہ

سماعت کے دوران عدالت نے شواہد کا جائزہ لے کر کہا کہ توہین عدالت کے الزامات ثابت ہوگئے ہیں۔

پشاور: سوات کورٹ روم میں خاتون جج کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کرنے والے وکیل پر پشاور ہائیکورٹ نے 6 ماہ قید اور جرمانہ عائد کردیا۔

پشاور ہائی کورٹ نے سوات میں خاتون جج کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے کے معاملے پر ایک وکیل کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے چھ ماہ قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی۔ عدالت نے اس حوالے سے مختصر فیصلہ بھی جاری کردیا۔

مختصر آرڈر کے مطابق سوات سے تعلق رکھنے والے وکیل اسد اللہ کے خلاف شکایات رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ کو موصول ہوئیں۔ شکایت خاتون سول جج فوزیہ نسیم کی جانب سے درج کرائی گئی تھی جس میں الزام عائد کیا گیا کہ کورٹ روم میں ان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی۔

عدالت نے شکایت کو باقاعدہ توہین عدالت کی درخواست میں تبدیل کرتے ہوئے کارروائی کا آغاز کیا اور متعلقہ وکیل کو نوٹس جاری کیا۔

سماعت کے دوران عدالت نے شواہد کا جائزہ لیا جس کے بعد مختصر فیصلے میں کہا گیا کہ توہین عدالت کے الزامات ثابت ہوگئے ہیں۔

پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت آرڈیننس 2004 کے تحت وکیل کو چھ ماہ قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ عدالتی وقار اور ججز کے احترام کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی قسم کی غیر مناسب زبان یا رویہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں