افغان سرزمین پر قبضہ کے بعد دہشت گرد عناصر کی مسلسل پشت پناہی طالبان رجیم کو مہنگی پڑ گئی۔
افغان جریدہ نے طالبان کی دہشتگرد تنظیموں کی سرپرستی کے باعث عالمی سطح پر سفارتی اور عسکری ناکامی کا پردہ چاک کردیا۔
افغان جریدہ ہشت صبح کے مطابق متعدد طالبان حکام فتنہ الخوارج کی افغانستان میں موجودگی کا بالواسطہ اعتراف کرچکے ہیں، ایٹمی طاقت پاکستان کیساتھ براہ راست عسکری تصادم طالبان کیلئے خطرناک اور مہنگا ثابت ہوگا۔
افغان جریدے نے کہا کہ افغانستان کیلئے پہلے ہی سرحدی بندش کے باعث ادویات اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ناقابل برداشت ہے، طالبان کے اقتدار پر قابض رہنے تک افغانستان عالمی سیاست اور سفارتکاری میں ناکام رہے گا۔
ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کی دہشتگردوں کیلئے سہولت کاری کیخلاف افغان عوام اور میڈیا بھی آوازیں اٹھا رہا ہے، افغانستان سے دنیا بھر میں بزدلانہ دہشتگرد حملے سفاک طالبان رجیم کی پہچان بن چکے ہیں۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کیجانب سے پیش کیے گئے ناقابل تردید شواہد کے بعد عالمی برادری بھی افغان سر زمین پر دہشتگرد پناہ گاہوں کا اعتراف کر چکی ہے۔
افغانستان کی جانب سے مسلسل سرحدپار دہشتگردی کا فروغ پاکستان سمیت پورے خطہ کیلئے سنگین چیلنج بن چکا ہے۔















