خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ کے قریب شکردرہ روڈ پر پولیس موبائل پر ہونے والے حملے میں ڈی ایس پی سمیت 7 افراد شہید ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ 24 فروری 2026 کو ضلع کوہاٹ کی شکردرہ روڈ پر پیش آیا، جہاں فتنہ الخوارج نے گھات لگا کے پولیس ٹیم پر حملہ کیا۔
پولیس ٹیم ایک زیرِ حراست ملزم کو منتقل کر رہی تھی کہ نواحی علاقے شکردرہ روڈ پر حملہ آوروں نے گھات لگا کر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار اور دیگر افراد شہید ہوئے۔
شہداء میں پانچ پولیس اہلکار، ایک زیرِ حراست ملزم اور ایک راہ گیر شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں تین پولیس اہلکار اور ایک قیدی شامل ہے۔
شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں میں صوابی کے تعلق رکھنے والے ڈی ایس پی اسد محمود خان شہید، ضلع کرک کے رہائشی سب انسپکٹر انار گل شہید، کوہاٹ کے رہائشی ہیڈ کانسٹیبل وہاب علی، کوہاٹ کے رہائشی پولیس کانسٹیبل مدثر شہید اور کوہاٹ کے رہائشی کانسٹیبل سید عامر عباس شہید شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں ظہور، عقاب، احمد عباس محب الرحمان شامل ہیں۔
شہید اور زخمی ہونے والے تمام افراد خیبر پختونخوا سے ہیں۔ فتنہ الخوارج نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ اسلام دشمن، پاکستان دشمن اور پشتون دشمن ہیں، ان عناصر کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں، انکا انسانیت اور مذہب سے کچھ لینا دینا نہیں۔
یہ گروہ بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعے اسلام کے نام کو بدنام کرتا ہے، نہ قرآنِ مجید ایسے وحشیانہ اقدامات کی اجازت دیتا ہے اور نہ سنتِ نبویؐ کسی بےگناہ کے قتل کو جائز قرار دیتی ہے۔
ان شاء اللہ شہداء کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا اور آخری خوارجی کے خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔


















