تربت میں گھر پر دہشتگردوں کے حملے میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہوگئے۔
تربت کی تحصیل بولیدہ مناز میں معصوم بلوچ خاندان کے گھر پر مسلح دہشتگردوں نے حملہ کر کے بچوں اور خواتین سمیت چھ بے گناہ افراد کو بے دردی سے قتل کردیا، یہ کوئی ’’جدوجہد‘‘ نہیں کھلی درندگی ہے۔
پولیس کے مطابق جاں بحق افراد میں کمسن بچے بھی شامل ہیں جبکہ 3 زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حلمے کے بعد علاقے میں شدید خوف ہراس پھیل گیا، جبکہ سیکیورٹی فورسزعلاقے کا گھیراؤ کر کےملزمان کو تلاش کر رہی ہے۔
یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ دہشتگرد عناصر نہ بلوچ روایات کا احترام کرتے ہیں، نہ انسانی اقدار کا، معصوم بچوں کو نشانہ بنانا کسی نظریے کی نہیں بلکہ بزدلی اور شکست خوردہ ذہنیت کی علامت ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہی ان کا ایجنڈا ہے؟ نہتے شہریوں کو زندہ جلانا؟ خوف پھیلانا؟ گھروں کو قبرستان بنانا؟
ایسے عناصر بلوچ شناخت کے نہیں بلکہ بلوچ دشمنی کے علمبردار ہیں۔ جو اپنی سرزمین کے بیٹوں اور بیٹیوں کو آگ میں جھونک دیں، وہ کسی کاز کے نمائندہ نہیں ہو سکتے۔
یہ وقت خاموشی کا نہیں، سچ بولنے کا ہے انسانیت کے قاتلوں کو بے نقاب کرنا اور متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔



















