Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سیکیورٹی تھریٹ؛ سندھ میں حساس مقامات اور ایئرپورٹ کی حفاظت مزید سخت کرنے کا فیصلہ

سندھ اسمبلی میں صوبے کو درپیش سیکیورٹی تھریٹس کے تناظر میں ایک اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔

کراچی: وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی زیرِ صدارت اجلاس میں سندھ میں سیکیورٹی تھریٹ کے پیش نظر حساس مقامات اور ایئرپورٹ کی حفاظت مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سندھ اسمبلی میں صوبے کو درپیش سیکیورٹی تھریٹس کے تناظر میں ایک اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں موجودہ داخلی و خارجی خطرات، حساس تنصیبات کی حفاظت، عوامی مقامات کی نگرانی اور بین الادارہ جاتی روابط کو مزید مؤثر بنانے سے متعلق جامع غور و خوض کیا گیا۔

اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری داخلہ، آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جیز کراچی، سی ٹی ڈی، اسپیشل برانچ، آئی جی جیل خانہ جات، جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل آئی بی، نمائندہ اے ایس ایف، نمائندہ پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی، قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں اور رینجرز سندھ کے افسران نے بھی شرکت کی۔ شرکاء نے موجودہ حالات، ماضی کے واقعات اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر تفصیلی بریفنگ دی۔

وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے سانحات اور حالیہ سیکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں سخت، مؤثر اور بروقت فیصلے کرنا ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کراچی ملک کا معاشی حب ہے اور اس کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے ہدایت کی کہ ایئرپورٹ پر غیر معمولی رش کے پیش نظر سیکیورٹی کو فول پروف بنایا جائے اور پک اینڈ ڈراپ پوائنٹس پر ایک سے دو افراد تک محدود رسائی کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔اس ضمن میں متعلقہ اداروں کے مابین قریبی رابطہ اور ہم آہنگی کو ناگزیر قرار دیا گیا۔

وزیر داخلہ نے قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ اور کوآرڈینیشن کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی صورت میں جائے حادثہ پر فوری رسپانس کے لیے جامع اور قابلِ عمل ایس او پیز مرتب کیے جائیں۔

انہوں نے صوبے کی تمام جیلوں میں تلاش ایپ ڈیوائس کی دستیابی یقینی بنانے اور اسنیپ چیکنگ، پکٹنگ اور کومبنگ آپریشنز کے دوران ان ڈیوائسز کے مؤثر استعمال کی ہدایت کی تاکہ مشتبہ عناصر کی فوری شناخت ممکن بنائی جاسکے۔ مزید برآں صوبائی سطح پر داخلی و خارجی پوائنٹس پر لیڈی سرچر کی تعیناتی کو لازمی قرار دیا گیا۔

سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس پر انتہا پسندانہ، فرقہ وارانہ یا عسکریت پسندانہ مواد کی تشہیر کے خلاف سخت اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ایسے مواد کا فرانزک تجزیہ کرکے ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

انہوں نے ٹرانسپورٹ آئی ایپ سے متعلق جملہ قانونی امور پر سفارشات جلد از جلد ارسال کرنے، تمام اہم اور حساس تنصیبات کا سیکیورٹی آڈٹ مکمل کرنے اور اسلحہ کی نمائش کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن کی بھی ہدایت جاری کی۔

وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے نیشنل ایکشن پلان کی تمام شقوں پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنانے اور کرایہ داری ایکٹ پر سختی سے عمل کرانے کی تاکید کی۔ ساتھ ہی ریلوے اسٹیشنز، بس ٹرمینلز، ٹرک اڈوں اور دیگر مال برداری کے مراکز پر کڑی نگرانی رکھنے اور نگرانی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ حالات کے پیش نظر دیگر صوبوں کے ساتھ بہترین کوآرڈینیشن قائم ہے اور باہمی تعاون سے ہر ممکن خطرے کا مؤثر تدارک کیا جائے گا۔ اجلاس کے اختتام پر متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی کہ طے شدہ فیصلوں پر فوری عمل درآمد یقینی بناکر پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے۔

متعلقہ خبریں