چمن کے علاقے تور پُل میں ایک گھر میں ہونے والے ہولناک دھماکے نے خوشیوں بھرے لمحوں کو چیخ و پکار میں بدل دیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق سلنڈر پھٹنے سے ہونے والے اس المناک واقعے میں بچوں سمیت 7 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 22 افراد زخمی ہو گئے، جن میں کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ افطاری سے قبل گھر میں بچے لسی خریدنے اور افطار کی تیاری کے سلسلے میں جمع تھے کہ اچانک زور دار دھماکے نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔
دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ گھر کا بڑا حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا جبکہ قریبی مکانات کی کھڑکیاں بھی ٹوٹ گئیں۔
ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے آپریشن شروع کیا۔ لاشوں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ اسپتال ذرائع کے مطابق بعض زخمیوں کو شدید جھلسنے اور سر پر گہری چوٹیں آئی ہیں۔
سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں دھماکے کی وجہ گیس سلنڈر کا پھٹنا قرار دی جا رہی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی پہلو کو نظر انداز نہ کیا جائے۔
مقامی افراد کے مطابق دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی اور ہر طرف خوف و ہراس پھیل گیا۔ کئی خاندانوں کے چراغ ایک ہی لمحے میں گل ہو گئے اور علاقے کی فضا سوگوار ہو گئی۔


















