انیس برس گزر گئے، مگر زخم آج بھی تازہ ہیں۔ سمجھوتہ ایکسپریس پر 2007 میں ہونے والے ہولناک دہشت گرد حملے کی برسی پر پاکستان کے دفتر خارجہ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ خاندان آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔
فروری 2007 میں بھارت کی سرزمین پر لاہور آنے والی سمجھوتہ ایکسپریس کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 68 بے گناہ مسافر جان کی بازی ہار گئے تھے، جن میں 44 پاکستانی شہری شامل تھے۔ یہ سانحہ پاک بھارت تعلقات کی تاریخ کے المناک ترین واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انیس برس گزرنے کے باوجود جاں بحق پاکستانیوں کے اہلِ خانہ کو انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بھارتی حکومت کی سرد مہری اور بے حسی پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بھارت کی جانب سے سنجیدہ پیش رفت نہ ہونا اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ پاکستانی شہریوں کے خلاف اس سنگین دہشت گرد حملے میں سرکاری اور سیاسی سطح پر معاونت یا چشم پوشی شامل رہی ہو سکتی ہے۔
دفتر خارجہ نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ اس سانحے کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور غیر جانبدارانہ کارروائی ہی خطے میں پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔


















