Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کیا پاکستان اب بھی افغانستان کے خلاف کارروائی نہ کرے؟

’’کیا ہم روز اسی طرح اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے رہیں‘‘۔

پاکستان نے گذشتہ شب افغانستان کے خلاف آپریشن غضب للحق کا آغاز کردیا ہے جس کے تحت اب تک 274 افغان طالبان ہلاک، 27 پوسٹیں تباہ اور 9 پر قبضہ کرلیا گیا ہے۔

یہ سب کب شروع ہوا؟

افغانستان نے 26 فروری کی رات 8 بجے پاکستان پرحملے شروع کیے تو افغان طالبان کے ترجمان ذبیح المجاہد کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان پر حملے میں متعدد چوکیوں کو تباہ کیا ہے جس میں انہوں نے جانی نقصان کا بھی دعویٰ کیا۔

بعد ازاں پاکستان نے جواب میں زمینی و فضائی حملے کیے جس کے نتیجے میں 274 افغان فورسز کے اہلکار ہلاک، 27 پوسٹیں تباہ اور 9 پر قبضہ کرلیا گیا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کا آغاز گذشتہ سال اکتوبر میں ہوا جس کے بعد دونوں جانب بارڈر کو بند کردیا گیا تھا لیکن پھر ترکیہ، قطر اور سعودی عرب کی جانب سے ثالثی کی کوششیں کی گئیں جس پر افغانستان نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور کشیدگی بحال رہی۔

16 فروری کے بعد جب پاکستان میں شدت پسندوں کی جانب سے حملے تیز ہوئے تو پاکستان نے افغان سرزمین پر ایئر اسٹرائیک کرکے بھرپور جواب دیا۔

پاکستان کا موقف ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں جو پاکستان میں آکر حملے کرتے ہیں جب کہ اس کے شواہد پاکستان کئی بار دنیا کے سامنے بھی رکھ چکا ہے اور افغانستان سے بار بار مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کو کنٹرول کرے۔

پاکستان کی جانب سے تمام مطالبات کے باجود ہم ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان پر حملوں میں کمی نہیں دیکھ رہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ حملوں میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کا نشانہ زیادہ تر بلوچستان اور کے پی کے میں رہنے والے عام شہری ہوتے ہیں۔

افغانستان نے گھٹنے ٹیک دیے

پاکستان کی جانب سے سخت جوابی کارروائی کے بعد افغان حکومت نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی خواہش ظاہر کردی ہے۔

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ حالیہ جھڑپوں کے باوجود افغانستان بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتا ہے، یہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔

مخلف ممالک کی تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل

اقوام متحدہ، ترکی، سعودی عرب اور ملائیشیا سمیت متعدد مسلم ممالک نے پاکستان اور افغانستان سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

ملائیشیا کی جانب سے پاکستان اور افغانستان سے تحمل سے کام لینے کی اپیل کی گئی ہے جب کہ روس نے دونوں ممالک کے درمیان مسلح جھڑپوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سفارتی ذرائع بتاتے ہیں کہ ترکیے نے پاک افغان تنازع ختم کرنے کے لیے کردار ادا کرنا شروع کردیا ہے جب کہ ترکیے کے وزیرخارجہ حاقان فدان نے دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ بات چیت کی ہے۔

کیا دوسرا آپشن موجود ہے؟

پاکستان میں رہنے والا ہر عام شہری بخوبی جانتا ہے کہ افغان سرزمین پر ہونے والی تمام جنگوں میں ہم نے نا صرف کھل کر ان کا ساتھ دیا بلکہ امریکی جنگ میں اپنے ملک سے بھاک کر آنے والے لاکھوں مہاجرین کو پناہ بھی دی۔

کئی دہائیوں تک پاکستان نے افغانیوں کی بھرپور مہمان نوازی کی ہے جس سے عالمی دنیا بھی واقف ہے، چاہے کھیل ہو یا تجارت ہم نے ہر میدان میں افغانستان کا بھرپور ساتھ دیا۔

لیکن ان تمام شکر گزاری کا بدلہ ہمیں دہشتگردی کی صورت میں ملا جب کہ افغان طالبان رجیم نے پاکستانیوں کی پیٹھ میں نہ صرف چھرا گھونپا بلکہ بھارت کے ساتھ مل کر ہماری سرزمین کے خلاف ناپاک سازشیں بھی شروع کردی ہیں۔

آئے روز طالبان کے حملوں کی خبریں جب پاکستانی سنتے ہیں تو ان کا خون کھول اٹھتا ہے، یہاں یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ ’’کیا ہم روز اسی طرح اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے رہیں‘‘۔

ایسے وقت میں کچھ پاکستانی ایسے بھی ہیں جو افغانستان پر حملے کی کھل کر مخالفت تو نہیں کررہے لیکن ایک اسلامی ملک کی جانب سے دوسرے اسلامی ملک پر حملے کو مغربی سازش قرار دے کر تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔

لیکن ایک محب وطن پاکستانی بخوبی اس بیرونی سازش کو جانتا ہے کیونکہ یہ حملہ کسی قوم یا ملک پر نہیں بلکہ ایک دہشتگرد تنظیم اور ان کے سہولتکاروں پر کیا جارہا ہے۔

پاکستان نے افغانستان میں ہونے والے تمام حملے افغان طالبان کی فوجی تنصیبات اور تحریک طالبان پاکستان کی پناہ گاہوں پر کیے ہیں جب کہ ان حملوں میں کسی بھی سول علاقوں کا نشانہ نہیں بنایا گیا اور اب تک کسی سویلین کی ہلاکت کی تصدیق بھی نہیں ہوئی ہے۔

البتہ افغانستان کی جانب سے پاکستان پر ہونے والے حملوں میں سویلین ہلاکت کی تصدیق ضرور ہوئی ہے تو کیا آپ یہی چاہتے ہیں کہ بس ہمارے شہری ہی مرتے رہیں اور پاکستان اس کا کوئی جواب نہ دے۔

نوٹ: بول نیوز اور اس کی پالیسی کا اس آرٹیکل سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

متعلقہ خبریں