وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے دشمن کو بیشک گھر بسائیں لیکن دشمنوں کے حلیف نہ بنیں۔
وزیردفاع خواجہ آصف نے سراج الدین حقانی کو کہاکہ آپ ہمارے مہمان رہے آپ کے خاندانوں کی دہائیوں تک مہمانداری کی، لاکھوں مہمان ابھی بھی پاک سرزمین پرپناہ گزین ہیں اور پاک مٹی سے رزق کماتے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ سوویت یونین کیخلاف مل کر جنگ لڑی،آپ کا اور ہمارا ایک ہی ہدف تھا، یہ ہدف آپ کو اور ہمیں امریکا نے دیاتھا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ نائن الیون کے بعد ہم نیٹوکے سہولت کارضرورتھے، ہم پر امریکا کا الزام رہا کہ ہم حقانی نیٹ ورک کے سہولت کار ہیں، ہم سے آپ کاپتہ پوچھاجاتاتھاکچھ یاد ہے آپ کو، ہم پرآپ کی سہولت کاری کاالزام سچ تھایاجھوٹ آپ ہی دنیا کو بتادیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پاکستان اب بھی افغانستان کے خلاف کارروائی نہ کرے؟
خواجہ آصف نے کہا کہ دونوں نوراکشتیوں میں1979سے نائن الیون تک امریکانے لفٹ کرانابندکردی، ہم آپ کی آپس کی لڑائیں ختم کراتے رہے سب کومکہ لے جاکرصلح کراتے رہے، آپ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے، ہم نے 3 نسلوں کی مہان نوازی کی۔
صلہ کیاملاآپ قاتلوں کوپناہ دیں، بچوں کے قاتلوں کوسینے سے لگائیں، آپ ہمارے گلی محلوں کوخون سے رنگنے والوں کے حلیف بنیں، میں کابل گیا آپ سے ملاقات ہوئی تھی، ایک درخواست کی تھی دشمنوں کے حلیف نہ بنیں اعانت نہ کریں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ آپ نے رقم مانگی ہم وہ بھی دینے کوتیارتھے مگرضمانت کوئی نہیں تھی، جس نسبت سے آپ کوحقانی پکاراجاتاہے وہ بہت عظیم بزرگ تھے، اس نام کی ہی لاج رکھیں ہم آپ سے کچھ بھی نہیں مانگتے۔


















