پشاور: خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں فتنہ الخوارج کی جانب سے پولیس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملوں کو پسپا کردیا۔
پولیس کے مطابق پشاور میں تھانہ متنی چوکی اور تھانہ بدھ بیر پر حملے کیے گئے جبکہ بنوں کے علاقے کنگر اور کاشوپل سمیت ضلع خیبر میں تکّیہ پوسٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ تاہم، حملہ آوروں نے دستی بموں اور چھوٹے بڑے ہتھیاروں کا استعمال کیا۔
ترجمان پولیس کے مطابق حملوں کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار اور 6 شہری زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے منتقل کردیا گیا۔
سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔
مزید پڑھیں: پاک فوج کی زمینی و فضائی کارروائیاں؛ افغان طالبان کو بھاری نقصان، متعدد پوسٹیں تباہ
آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے عوام کے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے شدت پسند عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور امن و امان کے قیام کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
پولیس حکام کے مطابق صوبے بھر میں سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے اور حساس مقامات پر نفری بڑھادی گئی ہے۔


















