وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی زیرِ صدارت سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) کراچی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں گزشتہ روز پیش آنے والے سیکیورٹی لیپس کے واقعہ اور مجموعی امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیر داخلہ سندھ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز پیش آنے والے سیکیورٹی لیپس پر وہ انتہائی سنجیدہ ہیں اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ واقعہ کے تناظر میں بعض افسران کو عہدوں سے ہٹانے کا فیصلہ وزیراعلیٰ سندھ اور ان کی مشاورت سے کیا گیا، تاکہ احتساب کا عمل شفاف اور مؤثر انداز میں آگے بڑھ سکے۔

انہوں نے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو ہدایت کی کہ اگر مزید افسران نااہلی یا غفلت میں ملوث پائے جائیں تو مکمل انکوائری کے بعد انہیں بھی عہدوں سے ہٹانے کی سفارش کی جائے۔ وزیر داخلہ سندھ نے زور دیا کہ سندھ پولیس ایک پیشہ ور فورس ہے، لہٰذا ہر افسر اور اہلکار اپنی ذمہ داریاں خالصتاً پیشہ ورانہ انداز میں ادا کرے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر طے شدہ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور کسی بھی ممکنہ جائے وقوعہ کا ذمہ دار متعلقہ فیلڈ افسر ہوگا۔ انہوں نے ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کو گزشتہ روز کی بہادری اور فوری ردعمل پر شاباش دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے افسران بہادر ہیں اور وہ کٹھن سے کٹھن صورتحال کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں

اجلاس میں وزیر داخلہ سندھ نے اسپیشل سیکیورٹی یونٹ (ایس ایس یو) کو ہدایت کی کہ وہ سیکیورٹی اقدامات میں پیش پیش رہے اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لائے۔ انہوں نے آر آر ایف کی اضافی نفری کو فوری طور پر کلوز کرنے اور ان کی ڈپلائمنٹ صرف طے شدہ ایس او پیز کے تحت یقینی بنانے کا حکم دیا۔
وزیر داخلہ سندھ نے کے نائن/ سراغ رساں کتوں کے یونٹ کو مزید فعال بنانے اور درکار وسائل سے متعلق فوری سفارشات ارسال کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے حساس اور اہم مقامات پر سیکیورٹی مزید سخت کرنے، جبکہ ایس ایس پیز آپریشن اور ٹریفک کو آج سے متعلقہ علاقوں میں متحرک اور فیلڈ میں موجود رہنے کا حکم دیا۔
وزیر داخلہ سندھ نے مزید ہدایت کی کہ صوبہ بھر میں اسنیپ چیکنگ، مؤثر اور مربوط پیٹرولنگ کے نظام کو فوری طور پر فعال بنایا جائے۔ داخلی و خارجی راستوں کی کڑی نگرانی، مشتبہ افراد کی بروقت چیکنگ، حساس مقامات کے اطراف اضافی نفری کی تعیناتی اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے نظام کو مربوط بنایا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کا پیشگی سدباب ممکن ہو سکے۔

اجلاس میں آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے گزشتہ روز پیش آنے والے واقعہ کے مختلف پہلوؤں، سیکیورٹی انتظامات اور ابتدائی تحقیقات سے متعلق شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس میں آئی جی سندھ،ایڈیشنل آئی جیز کراچی،سی ٹی ڈی، اسپیشل برانچ،زونل ڈی آئی جیز کراچی،ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز سندھ و دیگر نے شرکت کی۔



















