اسلام آباد: نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے میڈٰیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ جس کا نتیجے سب کے سامنے ہے کہ ایران نے سب سے کم حملے سعودی عرب اور عمان پر کیے۔
اسحاق ڈار نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ایران اور خلیجی ممالک کی فضائی حدود بند ہونے کے باعث وہاں پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے حکومتی سطح پر بھرپور اقدامات کیے جارہے ہیں۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ایران اور خلیجی ممالک میں صورتحال انتہائی ابتر ہے اور عمان اور سعودی عرب کے علاوہ تمام فضائی حدود بند ہیں۔ زمینی راستے تو کھلے ہیں لیکن ان میں سفر کرنے میں بہت زیادہ وقت لگتا ہے تاہم مختلف ممالک ان زمینی راستوں کو استعمال کررہے ہیں۔
نائب وزیراعظم نے بتایا کہ وزارت خارجہ میں کرائسس مینجمنٹ سیل 24 گھنٹے فعال ہے اور اس کے نمبرز ایکس ہینڈل پر موجود ہیں۔ متعدد ممالک کے افراد پھنسے ہوئے ہیں جن میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔
اسحاق ڈار کے مطابق اس وقت ایران میں 33 ہزار پاکستانی موجود ہیں۔ عراق میں 40 ہزار، سعودی عرب میں 25 لاکھ، قطر میں ساڑھے 3 لاکھ جب کہ 1400 پاکستانی قطر وزٹ ویزہ پر گئے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ابوظہبی میں سفارتخانہ جب کہ جدہ اور دبئی میں قونصل خانے فعال ہیں۔ ایران میں تہران، زاہدان اور مشہد میں تین سینٹرز فعال کیے گئے ہیں۔
نائب وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ 792 پاکستانی ایران سے واپس آچکے ہیں جب کہ ایران سے 64 پاکستانی آذربائیجان پہنچے ہیں جنہیں باکو سے پروازوں کے ذریعے وطن پہنچایا جارہا ہے۔ انہوں نے پاکستانیوں کے انخلاء میں معاونت پر آذربائیجان حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔
اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ 300 کے قریب ایرانی شہری بھی پاکستان آچکے ہیں جب کہ ابوظہبی میں میزائل گرنے سے ایک پاکستانی شہید ہوگیا ہے۔
نائب وزیراعظم کہتے ہیں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ موجود ہے۔ ایرانی فریق کو اپنے دفاعی معاہدے کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا اور ایرانی فریق نے کہا تھا کہ سعودی عرب یقینی بنائے کہ ان کی زمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہو۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ ایران سے سب سے کم حملے سعودی عرب اور عمان پر ہوئے ہیں۔


















